
فیصلآباد میں سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین اور رکنِ قومی اسمبلی صاحبزادہ حامد رضا کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق انہیں انسدادِ دہشتگردی عدالت فیصلآباد میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔
پارٹی کے قائم مقام چیئرمین صاحبزادہ حسن رضا نے گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حامد رضا پشاور سے فیصلآباد کے لیے روانہ ہوئے تھے تاکہ خود گرفتاری دے سکیں۔ پولیس نے انہیں راستے میں گرفتار کر لیا۔
ذرائع کے مطابق صاحبزادہ حامد رضا پر 9 مئی 2023 کے واقعات میں مبینہ کردار کے حوالے سے مقدمات درج ہیں، اور انہیں اسی کیس میں 10 سال قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔ تاہم ان کے وکلا کا کہنا ہے کہ سزا کے خلاف اپیل دائر کی جا چکی ہے اور قانونی چارہ جوئی جاری ہے۔
پارٹی رہنماؤں نے گرفتاری کو “سیاسی انتقام” قرار دیتے ہوئے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ سنی اتحاد کونسل پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتاری عدالتی فیصلے کے مطابق عمل میں لائی گئی ہے۔
صاحبزادہ حامد رضا گزشتہ کئی برسوں سے سنی اتحاد کونسل کی قیادت کر رہے ہیں اور وہ مذہبی و سیاسی دونوں محاذوں پر سرگرم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔









