بدلتے موسم میں کھانسی سے نجات کے آسان گھریلو طریقے

0
129
بدلتے موسم میں کھانسی سے نجات کے آسان گھریلو طریقے

موسم کی تبدیلی کے ساتھ ہی کھانسی، گلے کی خراش اور سوزش جیسی شکایات عام ہو جاتی ہیں، جن سے ہر عمر کے افراد متاثر ہوتے ہیں۔ یہ مسائل عموماً الرجی، وائرل یا بیکٹیریا کے انفیکشن کے باعث پیدا ہوتے ہیں۔

اگرچہ کھانسی جسم کا ایک قدرتی عمل ہے جو گلے اور سانس کی نالیوں کو صاف رکھنے میں مدد دیتا ہے، مگر مستقل کھانسی بعض اوقات کسی بیماری کی علامت بھی ہو سکتی ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ موسمی کھانسی سے بچاؤ اور علاج کے لیے کئی مؤثر گھریلو نسخے موجود ہیں۔

1. شہد اور لیموں

شہد گلے کی خراش اور سوزش کے لیے صدیوں سے استعمال ہوتا آ رہا ہے۔ گرم پانی میں دو چائے کے چمچ شہد اور چند قطرے لیموں کا رس شامل کر کے پینے سے کھانسی میں نمایاں آرام ملتا ہے۔ شہد گلے کو نرم کرتا ہے جبکہ لیموں گلے کی صفائی میں مدد دیتا ہے۔

2. پودینہ

پودینے میں موجود مینتھول سانس کی نالیوں کو کھولتا اور کھانسی کی شدت کو کم کرتا ہے۔ پودینے کی چائے پینے یا اس کی بھاپ لینے سے گلے کو سکون ملتا ہے۔

3. ادرک

ادرک کے قدرتی اجزا سانس کی نالیوں کے مسلز کو پرسکون کرتے ہیں۔ ادرک کی چائے نہ صرف بلغم کم کرتی ہے بلکہ گلے کی خراش سے بھی نجات دیتی ہے۔

4. ہلدی والا دودھ

ہلدی میں موجود سوزش کم کرنے والے اجزا کھانسی کے لیے مفید ہیں۔ رات کو سونے سے پہلے نیم گرم دودھ میں ہلدی اور چٹکی بھر سیاہ مرچ ڈال کر پینے سے فوری آرام ملتا ہے۔

5. گرم مشروبات اور پانی

گرم چائے یا سادہ گرم پانی پینے سے گلے کی صفائی میں مدد ملتی ہے اور کھانسی میں آرام آتا ہے۔ دن بھر مناسب مقدار میں پانی پینا بھی ضروری ہے تاکہ بلغم گاڑھا نہ ہو۔

6. بھاپ لینا

بھاپ لینے سے سانس کی نالیوں میں نمی بڑھتی ہے، جس سے کھانسی میں فوری سکون ملتا ہے۔ دن میں ایک یا دو بار بھاپ لینا مفید رہتا ہے۔

7. نمک والے پانی کے غرارے

نیم گرم پانی میں نمک ڈال کر غرارے کرنے سے گلے کی خراش اور کھانسی دونوں میں کمی آتی ہے۔ یہ عمل بلغم کو پتلا کرنے اور گلے کو صاف رکھنے میں مددگار ہے۔

8. کف ڈراپس یا ٹافیاں

مینتھول فلیور والی ٹافیاں یا کف ڈراپس عارضی طور پر گلے کو سکون پہنچاتی ہیں اور کھانسی کی شدت کو کم کرتی ہیں۔

احتیاط: اگر کھانسی دو ہفتوں سے زیادہ برقرار رہے، بخار یا سانس لینے میں دشواری ہو تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

Leave a reply