دیوالی کےتین دنوں میں 122 سےزائد بچے زخمی، 14 کی بینائی ختم

دیوالی کے موقع پر مقبول ہونے والی نئی قسم کی ہاتھ سے بنائی جانے والی آتش بازی کی ڈیوائس، جسے مقامی طور پر “کاربائیڈ گن” یا “دیسی فائر کریکر گن” کہا جا رہا ہے، خطرناک ثابت ہوئی ہے۔ صوبے کے مختلف شہروں کے ہسپتالوں میں محض تین دن میں 122 سے زائد بچے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے داخل کیے گئے، جن میں 14 بچوں نے اپنی بینائی کھو دی۔
ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ یہ ڈیوائس بظاہر کھلونے جیسی دکھتی ہے مگر اندر بھرے گئے کیمیائی مادّے اور دھاتی پارٹس دھماکے کے وقت چہرے اور آنکھوں پر براہِ راست لگتے ہیں۔ حادثے میں متاثرہ کئی بچوں کی آنکھ کے اندرونی حصے بری طرح جھلس گئے اور بعض کے آنکھوں کے پردے پھٹ گئے ہیں، جس کے باعث ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ کئی مریض ممکنہ طور پر مستقل بینائی کھو سکتے ہیں۔
ہسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز اور آئی سی یوز زخمی بچوں سے بھر چکے ہیں۔ طبی عملہ خطرناک کیمیکلز اور دھماکہ خیز مادّوں کے سبب آنکھوں اور چہرے پر ہونے والے پیچیدہ زخموں کی خصوصی نگہداشت کر رہا ہے۔ ہسپتال انتظامیہ نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ بچوں کو ایسی آتش بازی سے دور رکھیں اور آنکھوں یا چہرے پر چوٹ کی صورت میں فوراً ماہرِ چشم یا قریبی ہسپتال سے رابطہ کریں۔
پولیس نے تیزی سے کارروائی کرتے ہوئے جن افراد کے خلاف فروخت یا تیاری کی اطلاع ملی، ان کے خلاف مقدمات درج کیے اور متعدد افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ جو بھی اس طرح کی ڈیوائسز تیار، فروخت یا اشتہار کرے گا اسے قانون کے تحت سخت سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ضلعی انتظامیہ نے مقامی مارکیٹوں میں سیل فورسز بھی بھیج دی ہیں تاکہ ایسی غیرقانونی اشیاء کی فروخت روکی جا سکے۔
سوشل میڈیا کو بھی اس رجحان کے پھیلنے کی بڑی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ انسٹاگرام، یوٹیوب اور دیگر پلیٹ فارمز پر وائرل ویڈیوز میں نوجوان یہ ڈیوائسز چلانے کی نمائش کرتے دکھائی دیتے ہیں، جس سے تاثر بنتا ہے کہ اسے استعمال کرنا محفوظ ہے۔ ماہرین اطفال اور نفسیات کہتے ہیں کہ ایسی ویڈیوز بچوں اور نوجوانوں میں خطرناک ہورٹس کو فروغ دیتی ہیں اور والدین کو چاہیے کہ وہ آن لائن مواد پر نظر رکھیں اور بچوں کو سانحہ آور نتائج سے آگاہ کریں۔
ماہرین صحت، پولیس اور مقامی حکام نے مشترکہ طور پر والدین، اساتذہ اور دکانداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ بچوں کو ایسے کھیلوں سے منع کریں، بازاروں میں ملنے والی غیرقانونی اشیاء کی اطلاع فوراً انتظامیہ کو دیں، اور کسی بھی مشتبہ آتش بازی یا دھماکہ خیز مادّے کا پتہ چلنے پر متعلقہ حکام کو آگاہ کریں۔
اختتام میں، ڈاکٹروں نے یاد دہانی کرائی ہے کہ آنکھ اور چہرے پر زخمی ہونے کی صورت میں خود علاج یا گھریلو نسخوں پر بھروسہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے — فوری طور پر پیشہ ور طبی امداد حاصل کریں۔ حکومتی سطح پر کڑی نگرانی اور عوامی شعور بلند کرنے کے اقدامات کے ساتھ ہی یہ امید کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں ایسے حادثات کی تعداد کم کی جا سکے گی۔









