“چھٹی حس: وہ خاموش طاقت جو آپ کی زندگی چلا رہی ہے!” سائنس کی تصدیق

0
110
"چھٹی حس: وہ خاموش طاقت جو آپ کی زندگی چلا رہی ہے!" سائنس کی تصدیق

طویل عرصے سے یہ سمجھا جاتا رہا ہے کہ انسان کے پاس صرف پانچ بنیادی حواس ہوتے ہیں: دیکھنا، سننا، سونگھنا، چکھنا اور چھونا۔ لیکن حالیہ سائنسی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ ہمارے جسم میں ایک اور اہم حس بھی موجود ہے، جسے ’انٹروسیپشن‘ کہا جاتا ہے۔

یہ نئی تحقیق امریکہ کے معروف تحقیقاتی ادارے “سکریپس ریسرچ” کے سائنس دانوں نے کی ہے۔ ان کے مطابق یہ چھٹی حس انسانی جسم کے اندرونی نظام پر نظر رکھتی ہے اور دماغ کو دل کی دھڑکن، سانس کی رفتار، خون کے دباؤ اور دیگر اندرونی تبدیلیوں کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہے۔

اس عمل کے ذریعے ہمارا جسم خود کو متوازن رکھتا ہے، جیسے کہ ہمیں یہ جاننا کہ کب سانس لینے کی ضرورت ہے یا کب جسم کو آرام کی حاجت ہے۔ انٹروسیپشن ایک خاموش مگر مسلسل چلنے والا نظام ہے، جو ہمیں جسم کے اندر ہونے والی تبدیلیوں سے باخبر رکھتا ہے — چاہے ہمیں اس کا شعوری احساس ہو یا نہ ہو۔

اگرچہ اس تصور کو سب سے پہلے 20ویں صدی کے آغاز میں برطانوی سائنس دان چارلس شیرنگٹن نے پیش کیا تھا، لیکن اب جدید سائنسی آلات اور تحقیق کی بدولت اسے مزید بہتر طریقے سے سمجھا جا رہا ہے۔

اسی سلسلے میں امریکی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ نے اس تحقیق کو فروغ دینے کے لیے 14.2 ملین ڈالر کی فنڈنگ فراہم کی ہے، تاکہ انسانی اعصابی نظام اور مختلف اندرونی اعضاء کے درمیان تعلق کو مزید واضح کیا جا سکے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ انٹروسیپشن کے مطالعے سے نہ صرف جسمانی صحت بلکہ ذہنی صحت کو سمجھنے میں بھی مدد ملے گی، اور یہ تحقیق مستقبل میں دائمی بیماریوں جیسے بلڈ پریشر، مدافعتی نظام کی خرابیوں اور مسلسل درد کے علاج کے لیے نئی راہیں کھول سکتی ہے۔

یہ دریافت انسان کے جسمانی نظام کی پیچیدگی اور ذہانت کا ایک اور ثبوت ہے، اور ممکن ہے کہ آنے والے وقت میں یہ ہمارے علاج اور صحت کے تصور کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دے۔

Leave a reply