
ہوم سیکرٹری پنجاب نورالامین مینگل کیخلاف 5 سالہ بیمار بیٹی کا خرچہ ادا نہ کرنے کے کیس میں اہم پیشرفت
*نورالامین مینگل نے اپنی بیٹی ایلیہا نور کی آٹزم بیماری کو خود ساختہ اور مبینہ قرار دیدیا*
*خرچے کی ادائیگی سے بھاگنے کیلئے نورالامین مینگل نے 5 سالہ بیٹی کی بیماری پر اعتراضات اٹھا دیئے*
فیملی عدالت لاہور کی جج شازیہ کوثر نے ایلیہا نور اور عنبرین سردار کے کیس کی سماعت کی
متاثرہ ماں بیٹی کی طرف سے میاں دائود ایڈووکیٹ پیش ہوئے
*ہوم سیکرٹری پنجاب نورالامین مینگل نےبیمار بیٹی کاخرچہ جمع نہیں کرایا ، میاں دائود ایڈووکیٹ*
عدالت نے 30 مئی تک ماہانہ ڈیڑھ لاکھ روپے خرچہ جمع کرانے کا حکم دیا تھا، میاں دائود ایڈووکیٹ
ہم نے خرچہ کم کرنے کیلئے نظرثانی کی درخواست دائر کی ہے، وکیل نورالامین مینگل
نظرثانی کی درخواست بیمار بیٹی کا خرچہ روکنے کیلئے ایک تاخیری حربہ ہے، وکیل عنبرین سردار
ایک باپ کیلئے اس سے زیادہ غیرانسانی فعل نہیں ہو سکتا کہ وہ بیمار بیٹی کا خرچہ روکے، وکیل عنبرین سردار
نظرثانی درخواست میں 5 سالہ بیٹی کی بیماری بارے الفاظ افسوسناک اور غیرانسانی ہیں، وکیل عنبرین سردار
نورالامین مینگل نے ماہانہ ڈیڑھ لاکھ خرچہ کم کرنے کی نظرثانی درخواست دائر کر دی
عدالت نے نظرثانی درخواست پر نورالامین مینگل کی تیسری اہلیہ عنبرین سردار کو نوٹس جاری کر دیا
دو بیویاں اور 5 بچے ہیں، ماہانہ تنخواہ4لاکھ 71 ہزار ہے، نورالامین مینگل کی درخواست
فیملی عدالت نے ایک بیٹی کا ماہانہ ڈیڑھ لاکھ خرچہ مقرر کرتے وقت حقائق کو مدنظر نہیں رکھا، نورالامین مینگل
بیٹی ایلیہا نور کی آٹزم بیماری خود ساختہ ہے،نورالامین مینگل کا درخواست میں مئوقف
ماہانہ ڈیڑھ لاکھ خرچہ مقرر کرتے وقت عدالت نے پرائیویٹ ڈاکٹرز کی رپورٹ پر انحصار کیا، نورالامین مینگل
بیٹی ایلیہا نور کا سرکاری ہسپتال سے علاج کرایا جائےتاکہ میں حکومت سے میڈیکل اخراجات لے سکوں، نورالامین مینگل
فیملی عدالت کا عنبرین سردار کو نظرثانی درخواست پر 12 جون تک جواب جمع کرانے کا حکم









