لاہوریوں کو مری مرغیاں کھلائے جانے کا انکشاف

0
227
لاہوریوں کو مری مرغیاں کھلائے جانے کا انکشاف

ہاٹ لائن نیوز : آج کے بعد پنجاب میں کوئی بھی ٹائر جلانے والا پلانٹ نہیں لگے گا، اگر کوئی فیکٹری یا پلانٹ آلودگی میں ملوث پایا گیا تو ان کے بجلی کے کنکشن کاٹ دیے جائیں گے اور اس حوالے سے تمام ڈسکوز کو بھی حکم جاری کر دیا گیا ہے، ریڈ میٹ کے لیے بھی سلاٹر ہاؤس ہوتے ہیں،اس لیے ہماری تجویز ہے کہ چکن کے لیے بھی سلاٹر ہاؤس ہونے چاہیے۔

جوڈیشل کمیشن نے کہا کہ لاہور میں روز کی 10 ہزار مرغیاں آتی ہیں، جبکہ مری ہوئی مرغیاں بھی بیچی جا رہی ہیں، اس کے لیے اصطلاح استعمال ہوتی ہے کہ ٹھنڈی مرغی چاہیے یا گرم، ہم نے ہاؤسنگ سوسائٹیز کی ساتھ کچھ میٹینگز کی ہیں،ہم نے ان سے ریچارج ویلز، پارکس وغیرہ سے متعلق باتیں کیں، جوہر ٹاؤن کی ایک سوسائٹی نے ہمیں بتایا ہے کہ ان کے پاس 4 کنال زمین ہے، بتائیں کیا کرنا ہے ؟

عدالت نے کہا کہ فصلوں کی باقیات کو جلانے سے بچانے کے لیے ڈی جی ماحولیات اپنی تجاویز عدالت کو دیں،ہمیں حکومت سے کہنا ہے کہ زیادہ سے زیادہ سپر سیڈ مہیا کریں۔وکیل جوڈیشل کمیشن نے کہا کہ ہم نے ریسٹورنٹ والوں کو کہا ہے کہ پہلے آپ ہماری ہدایات پر عمل کر لیں،اس کے بعد ہم وزٹ کریں گے اور آپ کو مراعات دی جائیں گی۔

جبکہ جوڈیشل کمیشن میٹنگ کے دوران کے ۔ایف۔ سی ملازم کی جانب سے حاضری لسٹ پھاڑنے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا ہے، کے۔ ایف ۔سی کے سروے کروا کر تمام برانچز بند کروا دینی چاہیے،آپ ممبرز کے ساتھ اس طرح بدتمیزی نہیں کر سکتے، جج نے کہا کہ میں کے۔ ایف۔ سی کو سیل کر دوں گا،آپ اپنے مالک کو عدالت میں بلائیں اور ایڈوکیٹ جنرل پنجاب ان کے مالک کے خلاف کریمنیل کیس درج کروائیں،بعد ازاں عدالت نے ملازم کے معافی طلب کرنے پر معاملہ نمٹا دیا۔

وکیل پی۔ایچ۔اے نے نہر پر بہت سے درخت لگائے ہیں، اگر آپ وہاں گھاس بھی لگائیں تو بہت بہتر ہوگا،وہاں پر لوگ گرمیوں میں نہاتے ہیں تو گھاس خراب ہو جائے گی،اس چیز کو آپ روک نہیں سکتے کیونکہ یہ پوری دنیا میں گرمیوں میں ہوتا ہے۔

، ایڈوکیٹ عزت فاطمہ نے کہا کہ لبرٹی کے پاس قرشی پارک ہے، قرشی والے اس پارک کو سپانسر کرتے ہیں، یہ بہت اچھی بات ہے، لیکن مداخلت ایک حد تک ہونی چاہیے،پہلے اقبال پارک میں بھی سویمنگ پول ہوتے تھے، اب بھی ایسے سوئمنگ پول ہونے چاہیے، تا کہ لوگ نہر کی بجائے اپنے علاقوں میں نہا سکیں، جبکہ راوی کے قریب بھی کچھ بننا چاہے، عدالت

ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے کہا کہ آج کل ریڑھی بانوں کی تعداد بہت بڑھ چکی ہے، یہ معاملہ کمرشل ہو گیا ہے کہ ایک بندے کو ٹھیکا دے دیا جاتا ہے عدالت نے کہا کہ یہ حکومت کی پالیسی ہے، میں کیا کر سکتا ہوں ؟

جسٹس شاہد کریم نے مخلتف محکموں سے کارکردگی کی رپورٹس طلب کر لی ہیں۔

Leave a reply