انتخابی نشان واپس لینے کے خلاف درخواست پر اہم سماعت

0
228
انتخابی نشان واپس لینے کے خلاف درخواست پر اہم سماعت

ہاٹ لائن نیوز : لاہور ہائی کورٹ میں انتخابی نشان واپس لینےکےسنگل بینچ کے فیصلے کیخلاف انٹراکورٹ اپیل پرسماعت ہوئی ۔

وفاقی حکومت کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق انٹرا پارٹی الیکشنز نہ کروانا آئین کے آرٹیکل 17 کے خلاف ہے جب کہ وکیل الیکشن کمیشن نے عدالت میں کہا کہ سپریم کورٹ نے بینظیر بھٹو کے کیس کو ڈسکس کر کے اسے علیحدہ رکھا ہے جس پر وکیل وفاقی حکومت نے کہا کہ ہائیکورٹ کے لیے سپریم کورٹ کا فیصلہ حتمی ہے، پارٹی نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا، پھر یہ معاملہ سپریم کورٹ میں گیا، مگر پارٹی نے سیکشن 215 چیلینج نہیں کیا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اسے پی ٹی آئی کو چیلینج کرنا چاہیے تھا؟

وکیل وفاقی حکومت نے جواب دیا کہ جی، اسے پی ٹی آئی کو چیلینج کرنا چاہیے تھا،انتخابی نشان کا معاملہ ایک سیاسی جماعت کا ہے، ایک فرد تو عدالت نہیں آ سکتا۔

ایڈوکیٹ اظہر صدیق نےکہاکہ آرٹیکل 17 میں دو حقوق کی بات ہے، پارٹی کے اور فرد ہے، میں یہاں فرد کے حقوق کی بات کر رہا ہوں، ایک فرد کے بھی پارٹی کے حوالے سے کچھ حقوق ہیں،نصر نے میرا کام آسان کر دیا ہے، نصر کوشش کرتا ہے،

جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ کرتا نہیں ہے، کرتے ہیں، وہ جنرل ہیں، کورٹ کے آفیسر ہیں، جس پر ایڈوکیٹ اظہر صدیق نے کہا کہ میں بھی کورٹ کا افسر ہوں، میں اٹارنی جنرل کے دفتر کو اتنا بڑا نہیں سمجھتا۔

جسٹس علی باقرنجفی کی سربراہی میں دورکنی بنچ نےکیس کی سماعت کی ، انٹرا کورٹ اپیل شہری میاں شبیراسماعیل کیجانب سے دائر کی گئی ۔

Leave a reply