نوازشریف اورسیف الرحمن کایارانہ ،اکاونٹنٹ سے کھرب پتی بننے کاسفرکیسےطے کیا؟

0
263

لاہور: (ہاٹ لائن نیوز) سیف الرحمان کے والد کا میڈیکل اسٹور تھا ، سیف الرحمان صبح والد کو ویسپا پر دکان پر چھوڑتا اور خود کالج چلا جاتا ، سیف الرحمان نے اکاؤنٹ پڑھا اور قطر میں جرمن کمپنی RADCO میں اکاؤنٹنٹ کی جاب کرلی ۔

جب یہ کمپنی دیوالیہ ہو گئی تو اس کمپنی نے اپنا کنسٹرکشن کا سامان اونے پونے بیچ دیا اور خود جرمنی چلے گئے کل، کچھ عرصہ بعد قطر میں ایک نئی کنسٹرکشن کمپنی بنی ، جس کا مالک سیف تھا اور کمپنی کا نام REDCO تھا ۔

سیف الرحمان اور میاں محمد نواز شریف بچپن کے دوست ہیں ، انکے لاہور گھر کی دیواریں ملی ہوئی تھیں ، اس لیے انکی بچپن کی دوستی بزنس پارٹنر شپ میں بدل گئی ، تب نواز شریف جو اس وقت پنجاب کے وزیراعلی تھے ، سیف الرحمان کی کمپنی کو پہلا ٹھیکہ مری ہائی وے روڈ کا دیا ، اسکے بعد دوسرا ٹھیکہ نیو مری پٹریاٹہ چیر لفٹ لگانے کا مل گیا ، یہ ریزارٹ چلانے کا ٹھیکہ دیا ، جس نے ٹورازم ڈپارٹمنٹ کو ہر سال کروڑوں کا نقصان دیا ، اسکے اسلام آباد لاہور موٹر وے کے جتنے بھی پل اور ہڈ برج انڈر پاس بنےوہ سب Redco نے بنائے ، صرف روڈ ٹھیکہ ڈائیو کے پاس تھا ، واپڈا کے جتنے کنکریٹ کے کھمبے ھیں وہ REDCO کے ہی ہیں ، ایک وقت تھا جب REDCO آرمی کے لیے بارودی سرنگ کی باڈی بھی سپلائی کرتی تھی ، لاہور میں ان کا پلانٹ تھا ۔ جسے انکا سب سے چھوٹا بھائی عتیق الرحمان چلاتا تھا ، REDCO نے بہت ایکسٹرا منافع کمایا پاکستان سے اور ان سب کاروباروں میں نواز شریف مکمل حصے دار تھا اور ہے بھی اور اب تو یہ دونوں 50/50 کے رشتےدار بن گئے ہیں ۔

یہ کہانی سیف الرحمان کی ہے اب آپ سوچیں ایک آدمی جس کی پہلی ہی جاب ہو وہ بھی اکاؤنٹنٹ کی اور جس کمپنی میں جاب ہو وہ دیوالیہ ہو جائے اور پھر ایک اکاؤنٹنٹ مالک بن جائے ، اپنی جاب والی ہی کمپنی کا سامان خرید کر ! بات سمجھ آگئی ہو گی کہ سیف الرحمان نے RADCO سے غبن کیا اربوں کا اور پاکستان بھاگ آیا اور اپنے بھائی مجیب الرحمان ( یے وہ مجیب الرحمان ھے جس کو نواز شریف نے PCB کا چئیرمین بنا دیا تھا ) کو بڑے لیول کا کباڑیا بنا کر RADCO کے پاس بھیجا اور RADCO کا کنسٹرکشن کا سارا سامان غبن کیے ہوئے RADCO کے ہی پیسے سے خرید لیا ۔

اس کے بعد اس وقت کے قطر کے (جاسم فیملی ) وزیر ٹرانسپورٹ کو اپنے بزنس میں شامل کیا اب REDCO کے تین حصے دار ھیں سیف الرحمان برادر ، نواز شریف فیملی اور جاسم فیملی ۔ اگر بات ہو رہی ھے سیف الرحمان کی تو ایک قصہ زیادہ تر عوام کو نہیں معلوم ، سیف الرحمان کے بھائی مجیب الرحمن کو جب PCB کا چیرمین بنایا تو اس دور میں وسیم ذکرم کا سٹے کا اسکینڈل سامنے آیا اور ثبوتوں کی بنیاد پر وسیم اکرم پر تاحیات پابندی لگ رہی تھی PCB کمیٹی کا فیصلہ تھا پھر سیف الرحمان کے بھائی مجیب الرحمان نے وسیم اکرم کو یوکے کے ایک ہوٹل میں ڈیل کے لیے بلایا اور معافی دینے کی آفر کی بدلے 12 کروڑ مانگے لیکن سودا 7 کروڑ پر اٹکا پھر 3 کروڑ طے پایا اور وسیم اکرم کو معافی ملی ۔

اس کے علاؤہ REDCO ٹیکسٹائل کے نام پر حبیب بنک سے قرضہ لے کر معاف کروا لیا اور ٹیکسٹائل مل کا دیوالیہ دیکھا کر انشورنس لے کر غائب ہوگیا ، آج بھی وہ ٹیکسٹائل پر انکم ٹیکس کے تالے پڑے ہیں ، یہ پاکستان کا پیسہ چوری کرتے گئے اور REDCO بزنس قطر کے ساتھ پورے مڈل ایسٹ یوکے امریکہ مکسیکو تک پھیلاتے گئے ۔

نیو مری پٹریاٹہ میں chairlift اور cable car پنجاپ ٹورازم کا پروجیکٹ تھا جو جنگلات کی زمین پر لگائی گئی REDCO نے باقی ساتھ ایک پورا پہاڑ تقریباً 700 کنال جنگلات سے 145 ایک سو پینتالیس سو روپے پر کنال خرید لیا ، جب پٹریاٹہ کے ان جنگلات میں دیودار بہت ہیں ، ایک درخت کی قیمت لاکھوں میں ھے اور وہاں سوئس کاٹج نیو مری سٹی کا پروجیکٹ شروع کیا ، کاٹج بنائے تین مرلے کے کاٹج جو اس ہی مفت کی لکڑی اور پٹریاٹہ پنجاب ٹورازم پروجیکٹ کے مفت میٹیریل سے بنے وہ 75 لاکھ 1 کروڑ میں بکے ، کچھ لوگوں کو ملے کچھ آج بھی ان کو ڈھونڈ رھے ہیں کیونکہ booking کے ایڈوانس لیے کر یہ غائب ہو گئے تھے کیونکہ پھر جنرل پرویز مشرف کا دورشروع ہوا تو یہ پاکستان سے بھاگ گئے ۔

BMW کو پاکستان میں لانچ کرنے کے چکر میں بھی پاکستان کے شہری ان کو ڈھونڈ رہے ہیں ۔

Leave a reply