یمن میں مبینہ سعودی فضائی حملے، خواتین اور بچوں سمیت 33 افراد جاں بحق

صنعاء: یمن کے دارالحکومت صنعاء کے قریب ایک علاقے میں مبینہ سعودی فضائی حملوں کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 33 افراد جاں بحق جبکہ 39 زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ملبے تلے مزید افراد کی موجودگی کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حوثیوں کے زیر انتظام خبر رساں ادارے سبا نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی طیاروں نے ہفتے کے روز صنعاء کے مشرق میں واقع علاقے بنی حشیش کو نشانہ بنایا۔
حوثی وزارت صحت کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔ تاہم حملوں اور جانی نقصان سے متعلق ان دعوؤں کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی۔
رپورٹس کے مطابق متاثرہ علاقے میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ طبی حکام کا کہنا ہے کہ متعدد زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے اور انہیں سر، سینے اور ٹانگوں پر شدید چوٹیں آئی ہیں۔
اسپتال انتظامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ امدادی سرگرمیوں کے دوران بھی حملے جاری رہے، جس کے باعث امدادی کارکنوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور طبی عملے کے بعض ارکان بھی متاثر ہوئے۔
دوسری جانب سعودی عرب کے سینٹر فار انٹرنیشنل کمیونیکیشن نے واقعے سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات کا جائزہ لینے کی تصدیق کی ہے۔
یمن میں سعودی عرب اور حوثی گروپ کے درمیان کشیدگی میں اضافے سے ملک میں امن کی کوششوں کو ایک بار پھر دھچکا پہنچا ہے۔ 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی سے ہونے والی جنگ بندی کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان لڑائی میں نمایاں کمی آئی تھی، تاہم حالیہ جھڑپوں نے صورتحال دوبارہ غیر مستحکم کردی ہے۔
حوثی گروپ یمن کے دارالحکومت صنعاء سمیت کئی علاقوں پر کنٹرول رکھتا ہے۔ ماضی میں اس گروپ کی جانب سے سعودی عرب کی اہم تنصیبات اور ہوائی اڈوں کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، جبکہ سعودی عرب بھی یمن میں اپنے اتحادیوں کی حمایت میں فوجی کارروائیاں کرتا رہا ہے۔
یمن کی طویل خانہ جنگی نے پہلے ہی ملک کو سنگین انسانی بحران سے دوچار کر رکھا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کے مطابق تازہ لڑائی کے نتیجے میں 2 لاکھ سے زائد افراد اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق جاری کشیدگی سے یمن میں انسانی صورتحال مزید خراب ہونے اور خطے میں عدم استحکام بڑھنے کا خدشہ ہے۔









