زمین کے حفاظتی نظام میں غیر معمولی تبدیلی، خلائی تابکاری میں 5 ہزار گنا اضافہ ریکارڈ

0
10
زمین کے حفاظتی نظام میں غیر معمولی تبدیلی، خلائی تابکاری میں 5 ہزار گنا اضافہ ریکارڈ

**اسلام آباد: ** سائنس دانوں نے انکشاف کیا ہے کہ مئی 2024 میں آنے والے شدید شمسی طوفان کے دوران زمین کے اندرونی تابکاری والے خطے میں انتہائی توانائی کے حامل الیکٹرانز کی تعداد میں 5 ہزار گنا سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

تحقیق کے مطابق اس غیر معمولی تبدیلی نے زمین کے مقناطیسی میدان اور تابکاری کی پٹیوں سے متعلق سائنسی تصورات پر نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔

زمین کا مقناطیسی میدان خلا سے آنے والے توانائی کے حامل ذرات کے اثرات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ زمین کے گرد موجود تابکاری کے دو بڑے خطوں کو وان ایلن بیلٹس کہا جاتا ہے، جہاں برقی چارج رکھنے والے ذرات مقناطیسی میدان میں پھنسے رہتے ہیں۔

ان میں اندرونی پٹی میں زیادہ تر توانائی کے حامل پروٹونز جبکہ بیرونی پٹی میں بڑی تعداد میں الیکٹرانز پائے جاتے ہیں۔ شدید شمسی سرگرمی ان ذرات کی تعداد اور توانائی میں تبدیلی کا سبب بن سکتی ہے۔

محققین کے مطابق مئی 2024 میں آنے والا جیو میگنیٹک طوفان جی 5 کی شدت تک پہنچا تھا، جو اس پیمانے کی بلند ترین سطح ہے۔ اس طوفان کے دوران زمین کے گرد موجود پلازما کے ماحول میں نمایاں تبدیلی آئی، جس سے برقی مقناطیسی لہروں کو الیکٹرانز کی توانائی بڑھانے کے لیے سازگار حالات میسر آئے۔

الیکٹرانز کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ

تحقیق کے دوران جاپانی اراسے (Arase) سیٹلائٹ سے حاصل کردہ معلومات کا تجزیہ کیا گیا، جو 2017 سے زمین کے گرد تابکاری کے ماحول کا مشاہدہ کر رہا ہے۔

اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ تقریباً 3 میگا الیکٹران وولٹ توانائی رکھنے والے الیکٹرانز کی تعداد میں شمسی طوفان سے پہلے کے مقابلے میں 5 ہزار گنا سے زیادہ اضافہ ہوا۔

سائنس دانوں نے مشاہدہ کیا کہ پہلے کم توانائی والے الیکٹرانز کی تعداد میں اضافہ ہوا، جس کے بعد تقریباً 24 گھنٹوں کے اندر زیادہ توانائی والے الیکٹرانز بھی نمایاں طور پر بڑھ گئے۔

اس ترتیب سے محققین نے یہ امکان ظاہر کیا کہ الیکٹرانز نے اسی خطے میں توانائی حاصل کی، نہ کہ صرف کسی دوسرے مقام سے وہاں منتقل ہوئے۔

سیٹلائٹس اور خلائی مشنز کیلیے کیا خطرات ہیں؟

ماہرین کے مطابق انتہائی توانائی والے الیکٹرانز سیٹلائٹس کے حساس برقی نظام کو متاثر کرسکتے ہیں۔ یہ ذرات حفاظتی تہوں سے گزر کر الیکٹرانک آلات میں خرابی پیدا کرنے اور خلائی مشینوں کی کارکردگی و عمر کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اسی طرح خلا میں کام کرنے والے خلابازوں کو بھی ایسے حالات میں اضافی تابکاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ شمسی طوفان کے اثرات فوری طور پر ختم نہیں ہوئے بلکہ اراسے سیٹلائٹ نے اکتوبر 2024 تک اس خطے میں زیادہ توانائی والے الیکٹرانز کی بلند سطح کا مشاہدہ کیا۔ بعد ازاں ایک اور شمسی طوفان نے بھی اس خلائی ماحول کو متاثر کیا۔

خلائی موسم کی پیش گوئی میں مدد ملنے کی امید

محققین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ شدید شمسی طوفان زمین کے اندرونی تابکاری والے خطے میں بھی نمایاں تبدیلیاں پیدا کرسکتے ہیں۔

اس تحقیق سے خلائی موسم کی پیش گوئی بہتر بنانے اور مستقبل میں سیٹلائٹس، خلائی جہازوں اور خلابازوں کو تابکاری کے ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھنے کی حکمت عملی تیار کرنے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔

Leave a reply