پاکستان میں بینکوں اور اہم تنصیبات پر سائبر حملوں کا خدشہ، سکیورٹی ایڈوائزری جاری

0
11
پاکستان میں بینکوں اور اہم تنصیبات پر سائبر حملوں کا خدشہ، سکیورٹی ایڈوائزری جاری

اسلام آباد: پاکستان میں مالیاتی اداروں اور اہم قومی تنصیبات کو ممکنہ سائبر حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے نئی سکیورٹی ایڈوائزری جاری کردی ہے۔

ایڈوائزری میں خبردار کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے ہوئے استعمال سے سائبر حملوں کی نوعیت اور شدت میں اضافہ ہوسکتا ہے، جس کے نتیجے میں بینکنگ سسٹم، آن لائن ادائیگیوں اور صارفین کے حساس مالیاتی ڈیٹا کو خطرات لاحق ہیں۔

حکام کے مطابق سائبر حملہ آور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے پاس ورڈز چرانے، خودکار حملے کرنے اور ڈیجیٹل نظام میں خلل ڈالنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ جعلی بینک بیلنس یا غلط معلومات کے ذریعے صارفین میں خوف و بے یقینی پھیلانے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

ایڈوائزری میں صرف مالیاتی شعبے کو ہی نہیں بلکہ بجلی کی پیداوار و ترسیل، تیل و گیس کی تنصیبات، پانی کی فراہمی اور ٹرانسپورٹ سمیت دیگر اہم عوامی خدمات کو بھی ممکنہ سائبر خطرات سے خبردار کیا گیا ہے۔

نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے تیسرے فریق کے سروس فراہم کنندگان اور غیر محفوظ ریموٹ رسائی کو بھی ڈیجیٹل سکیورٹی کے لیے اہم خطرہ قرار دیا ہے۔

متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کا سکیورٹی آڈٹ کریں، حفاظتی نظام کو جدید بنائیں اور سائبر حملوں کی بروقت نشاندہی اور تدارک کے لیے مؤثر حکمت عملی اختیار کریں۔

حکام کے مطابق حساس معلومات کے تحفظ اور اہم قومی خدمات کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے سائبر سکیورٹی کے اقدامات مزید مضبوط بنانا ضروری ہے۔

Leave a reply