
اسلام آباد: امریکی خلائی ادارے ناسا کی معروف خلائی دوربین سوئفٹ 22 سال تک کائنات کے راز کھولنے کے بعد بالآخر زمین کے مدار سے نکل کر فضا میں داخل ہوگئی، جہاں شدید حرارت کے باعث اس کا بیشتر حصہ جل کر تباہ ہوگیا۔
ناسا کے مطابق سوئفٹ سیٹلائٹ 4 نومبر کو انڈونیشیا کے اوپر زمین کی فضا میں داخل ہوا۔ امریکی خلائی فورس نے بھی اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دوربین تقریباً 22 گنا رفتارِ صوت سے زمین کی فضا میں داخل ہوئی۔ حکام کے مطابق اس واقعے میں کسی جانی نقصان یا املاک کو نقصان پہنچنے کی اطلاع نہیں ملی۔
تقریباً 50 کروڑ ڈالر کی لاگت سے تیار ہونے والی اس دوربین کو 2004 میں خلا میں بھیجا گیا تھا۔ اس کا بنیادی مقصد گاما رے برسٹس کا مشاہدہ کرنا تھا، جو کائنات میں ہونے والے انتہائی طاقتور دھماکوں میں شمار ہوتے ہیں۔
سوئفٹ میں تین مختلف سائنسی آلات نصب تھے، جن کی مدد سے یہ کائنات کو مختلف طولِ موج پر دیکھ سکتی تھی۔ اپنے طویل مشن کے دوران اس نے گاما رے دھماکوں کے علاوہ سپرنووا، بلیک ہولز اور دیگر خلائی مظاہر کا بھی مشاہدہ کیا۔ ناسا کے مطابق اس کے حاصل کردہ ڈیٹا سے اب تک تقریباً 7 ہزار تحقیقی مقالے شائع ہوچکے ہیں۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ سوئفٹ کو ابتدائی طور پر صرف دو سال کام کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا، لیکن اس نے دو دہائیوں سے زیادہ عرصے تک خدمات انجام دیں۔
ناسا نے رواں سال اسے بچانے اور بلند مدار میں منتقل کرنے کی کوشش بھی کی، تاہم لنک نامی ریسکیو خلائی جہاز میں تکنیکی خرابی کے باعث یہ منصوبہ ناکام ہوگیا۔
20 اکتوبر کو دوربین کا سائنسی مشن باضابطہ طور پر ختم کردیا گیا تھا، جبکہ 4 نومبر کو زمین کی فضا میں داخل ہونے کے بعد اس کا خلائی سفر بھی ہمیشہ کے لیے اختتام پذیر ہوگیا۔









