ایران پر امریکی ایٹمی حملے کا خدشہ، ٹکر کارلسن کے دعوے نے عالمی سطح پر تشویش بڑھا دی

امریکی صحافی اور سیاسی تجزیہ کار ٹکر کارلسن نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف ایٹمی حملے کے امکان پر غور کر سکتا ہے، جس کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں ممکنہ بڑے فوجی تصادم اور عالمی جنگ کے خدشات پر نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔
ٹکر کارلسن کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کی جانب سے ایران کے خلاف سخت فوجی کارروائی کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم اس معاملے پر امریکی صدر سے مسلسل رابطے میں ہیں۔
کارلسن نے اپنے بیان میں وسطی ایران کے ایک پہاڑی علاقے کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہاں زیرِ زمین جوہری تنصیبات میں سرگرمیاں دوبارہ شروع ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ان کے بقول ان تنصیبات کی گہرائی کے باعث روایتی ہتھیاروں سے انہیں نشانہ بنانا مشکل ہو سکتا ہے۔
امریکی صحافی نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر زیرِ زمین تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے جوہری ہتھیار استعمال کیے گئے تو اس کے اثرات ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا خطہ شدید ماحولیاتی اور انسانی بحران سے دوچار ہو سکتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ممکنہ جوہری دھماکے سے خارج ہونے والا تابکار مواد خلیجی خطے کے ماحول، پانی اور انسانی آبادی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔
کارلسن نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض اعلیٰ عہدیدار ایران کے خلاف سخت فوجی کارروائی کے حامی ہیں، تاہم نائب صدر جے ڈی وینس اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف سمیت بعض شخصیات سفارتی حل کو ترجیح دے رہی ہیں۔
دوسری جانب امریکی سیاسی حلقوں میں ان دعوؤں پر اختلافات سامنے آئے ہیں۔ ریپبلکن رکن کانگریس مارجوری ٹیلر گرین نے ممکنہ جوہری حملے کی مخالفت کرتے ہوئے اسے انسانیت کے لیے تباہ کن اقدام قرار دیا، جبکہ سیاسی مبصر لورا لومر نے ان اطلاعات کو غیر مصدقہ افواہ قرار دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ خطے کی سلامتی، عالمی توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی معیشت کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
واضح رہے کہ ایران پر امریکی ایٹمی حملے کی تیاری یا اس حوالے سے کسی حتمی فیصلے کی آزادانہ اور سرکاری سطح پر تصدیق سامنے نہیں آئی۔ ٹکر کارلسن کے بیان میں کیے گئے دعوؤں کو فی الحال مصدقہ خبر کے بجائے غیر تصدیق شدہ اطلاعات کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔









