
سیالکوٹ: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ماضی میں بھی جنگیں ہوئیں، تاہم اس بار صورتحال مختلف تھی کیونکہ بھارت اور اس کی فوج نے خود شکست تسلیم کی، جو پاکستان کے لیے باعثِ فخر ہے۔
سیالکوٹ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان نے اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن کا مقابلہ کیا اور کامیابی حاصل کی۔ ان کے مطابق ماضی کی جنگوں کے برعکس اس مرتبہ کسی قسم کا ابہام باقی نہیں رہا۔
وزیر دفاع نے کہا کہ امریکی صدر بھی متعدد مرتبہ طیارے گرائے جانے کا ذکر کر چکے ہیں، جبکہ فیلڈ مارشل کی قیادت میں پاکستان کی سفارتی کامیابیاں جاری ہیں۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان نے اسلامی ممالک کو یہ پیغام دیا ہے کہ بیرون ملک قائم فوجی اڈے ضروری نہیں کہ متعلقہ ممالک کے دفاع کے لیے ہوں، بلکہ ان کا مقصد اسرائیل کا تحفظ بھی ہو سکتا ہے۔
اپنی سیاسی جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے وزیر دفاع نے بتایا کہ انہوں نے 1991 میں سیاست کا آغاز کیا اور گزشتہ 36 برس سے ملک کی خدمت کر رہے ہیں۔ سیالکوٹ کو اپنی شناخت قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہر کے عوام کی بہتری ان کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے ماضی کی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ مشرف دور میں اٹک قلعے میں قید رہے اور مجموعی طور پر چار مرتبہ جیل جا چکے ہیں۔ 2020 میں تحریک انصاف کے دور حکومت میں بھی انہیں نیب نے چھ ماہ تک حراست میں رکھا، تاہم انہیں اپنے خلاف الزامات کی واضح تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔
وزیر دفاع نے سیاسی انتقام کو ملکی مفاد کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی حکومتوں کی جانب سے پہلے گرفتاری اور بعد میں الزامات تلاش کرنے کا طریقہ درست نہیں۔ ان کے بقول احتساب کے عمل کو سیاسی مخالفت کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔









