فرانس میں شیمونڈا وائرس سے متاثرہ شخص کی موت، انسانوں میں پہلے کیس کی تصدیق

0
6
فرانس میں شیمونڈا وائرس سے متاثرہ شخص کی موت، انسانوں میں پہلے کیس کی تصدیق

لیون: فرانس میں مویشیوں میں پائے جانیوالے شیمونڈا وائرس (Shamonda Virus) سے انسان کے متاثر ہونیکا پہلا کیس سامنےآیا ہے۔ متاثرہ شخص کی موت کےبعد فرانسیسی حکام نےوائرس کے ممکنہ کردار اور ہلاکت سے اسکے تعلق کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

فرانسیسی وزارتِ صحت اور محکمہ زراعت کے مطابق یہ انسان میں شیمونڈا وائرس کی منتقلی کا پہلا دستاویزی واقعہ ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس سے قبل یہ وائرس بنیادی طور پر مویشیوں میں پایا جاتا تھا اور اسے انسانوں کے لیے خطرہ نہیں سمجھا جاتا تھا۔

مریض کی حالت غیر معمولی تھی

حکام کے مطابق متاثرہ شخص فرانس کے شہر لیون کے ایک اسپتال میں سنگین بیماری کے علاج کے لیے زیرِ نگرانی تھا۔ مریض کا مدافعتی نظام شدید کمزور تھا، جس کے باعث یہ کیس طبی اعتبار سے غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔

مریض کی موت ہو چکی ہے، تاہم تاحال یہ واضح نہیں کہ موت براہِ راست وائرس کے باعث ہوئی یا اس میں دیگر بیماریوں کا بھی کردار تھا۔ اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔

وائرس انسانوں تک کیسے پہنچا؟

ابتدائی تحقیقات کے مطابق امکان ہے کہ متاثرہ شخص کو وائرس ایک چھوٹے کاٹنے والے حشرے، جسے کولی کوائڈز مِج (Culicoides midge) کہا جاتا ہے، کے ذریعے منتقل ہوا ہو۔ یہ حشرات جانوروں میں بعض وائرس پھیلانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔

فرانسیسی حکام کے مطابق مشرقی فرانس کے جس علاقے میں متاثرہ شخص موجود تھا، وہاں رواں سال مویشیوں میں بھی اس وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی تھی۔

شیمونڈا وائرس کی تاریخ اور علامات

شیمونڈا وائرس کی شناخت پہلی مرتبہ 1960 کی دہائی میں نائجیریا میں ہوئی تھی۔ اس کے بعد افریقہ کے مختلف علاقوں اور جاپان میں مویشیوں کے اندر اس کی موجودگی رپورٹ ہوتی رہی۔

فرانس میں حالیہ عرصے کے دوران اس وائرس کے زیادہ تر کیس گائے میں سامنے آئے، تاہم بھیڑوں، بکریوں اور گھوڑوں میں بھی چند کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

کیا یہ وائرس انسانوں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے؟

انسان میں اس وائرس کی منتقلی کا یہ پہلا دستاویزی واقعہ ہونے کے باعث اس کے انسانی صحت پر ممکنہ اثرات کے بارے میں معلومات ابھی محدود ہیں۔ حکام کی تحقیقات سے یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ آیا یہ واقعہ کسی غیر معمولی طبی صورتِ حال سے متعلق ہے یا وائرس کے انسانی منتقلی کے امکانات پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

فی الحال اس ایک واقعے کی بنیاد پر عام آبادی کے لیے خطرے کی سطح یا وائرس کے انسانوں میں وسیع پیمانے پر پھیلنے کے امکان کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔

نوٹ: یہ خبر فراہم کردہ معلومات کو نئے الفاظ، نئی ترتیب اور اصل سرخی کے ساتھ تحریر کرکے تیار کی گئی ہے۔ اشاعت سے پہلے خبر کی تازہ ترین تفصیلات اور سرکاری ذرائع سے تصدیق کر لیں۔

Leave a reply