لیپ سیکنڈ ختم کرنے کی تیاری، عالمی وقت کے نظام میں بڑی تبدیلی متوقع

0
13
لیپ سیکنڈ ختم کرنے کی تیاری، عالمی وقت کے نظام میں بڑی تبدیلی متوقع

پیرس: دنیا بھر میں وقت کی پیمائش کے طریقہ کار میں اہم تبدیلی زیر غور ہے، جس کے تحت گھڑیوں میں اضافی سیکنڈ شامل کرنے کا موجودہ نظام ختم کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس اقدام کا مقصد جدید ٹیکنالوجی کے لیے وقت کے حساب کو زیادہ مستحکم اور قابلِ اعتماد بنانا ہے۔

وقت کی پیمائش کے عالمی نظام میں لیپ سیکنڈ کا کردار کئی دہائیوں سے اہم رہا ہے۔ اس طریقے کے ذریعے ایٹمی گھڑیوں کے وقت اور زمین کی گردش سے حاصل ہونے والے وقت کے درمیان فرق کو کم رکھا جاتا ہے۔ تاہم، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ اس نظام کو برقرار رکھنا ایک تکنیکی چیلنج بن گیا ہے۔

لیپ سیکنڈ کیا ہے؟

دنیا میں وقت کا تعین بنیادی طور پر دو طریقوں سے کیا جاتا ہے۔ ایک طریقہ زمین کی گردش پر مبنی ہے، جبکہ دوسرا ایٹمی گھڑیوں کے ذریعے انتہائی درست وقت کی پیمائش کرتا ہے۔

زمین کی گردش کی رفتار مستقل نہیں رہتی۔ چاند کی کشش، زمین کے اندرونی عوامل اور سمندروں سمیت قدرتی نظاموں میں تبدیلیاں اس رفتار کو متاثر کرتی ہیں۔ اس کے برعکس، ایٹمی گھڑیاں نہایت باقاعدگی سے وقت کی پیمائش کرتی ہیں۔

ان دونوں نظاموں کے درمیان فرق کو محدود رکھنے کے لیے ضرورت پڑنے پر عالمی وقت میں ایک سیکنڈ کا اضافہ کیا جاتا ہے، جسے لیپ سیکنڈ کہا جاتا ہے۔ سن 1972 سے اب تک مجموعی طور پر 27 لیپ سیکنڈ شامل کیے جا چکے ہیں۔

ٹیکنالوجی کے لیے مسئلہ کیوں بن رہا ہے؟

لیپ سیکنڈ کا اضافہ عام زندگی میں شاید محسوس نہ ہو، لیکن کمپیوٹر نیٹ ورکس، ڈیٹا سینٹرز، ٹیلی کمیونیکیشن اور توانائی کے نظاموں کے لیے یہ پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔

بعض ڈیجیٹل نظام وقت میں اچانک تبدیلی کو درست انداز میں سنبھالنے کے لیے تیار نہیں ہوتے، جس سے سافٹ ویئر کی خرابی، ڈیٹا کے اندراج میں مسائل یا خدمات میں عارضی خلل پیدا ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔

اسی وجہ سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں طویل عرصے سے ایسا طریقہ اپنانے پر زور دیا جا رہا ہے جس میں عالمی وقت کو بار بار ایک سیکنڈ آگے بڑھانے کی ضرورت نہ پڑے۔

وقت اور پیمائش کے بین الاقوامی معیار سے متعلق ادارے کے تحت لیپ سیکنڈ کے مستقبل پر کئی برسوں سے غور جاری ہے۔ سن 2022 میں عالمی سطح پر اس نظام میں تبدیلی کی حمایت کی گئی تھی، جس کا ہدف 2035 یا اس سے پہلے نئے طریقہ کار کی تیاری تھا۔

مجوزہ تبدیلی کے مطابق عالمی وقت کو مسلسل برقرار رکھا جا سکتا ہے، جبکہ زمین کی گردش کے ساتھ اس کی مطابقت کے لیے بار بار اضافی سیکنڈ شامل کرنے کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔

اس معاملے میں مختلف ممالک کے مؤقف اور سیٹلائٹ نیویگیشن سمیت اہم تکنیکی نظاموں کی ضروریات بھی اہم ہیں۔ کسی بھی تبدیلی کے نفاذ کے لیے عالمی سطح پر ہم آہنگی ضروری ہوگی۔

کیا کبھی گھڑیوں سے ایک سیکنڈ کم بھی کیا جا سکتا ہے؟

ماہرین کے مطابق زمین کی گردش میں حالیہ برسوں کے دوران ایسی تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں جن کے باعث مستقبل میں وقت سے ایک سیکنڈ کم کرنے کی ضرورت بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ اس عمل کو منفی لیپ سیکنڈ کہا جاتا ہے۔

تاہم، گھڑیوں سے ایک سیکنڈ کم کرنے کا طریقہ ابھی عملی طور پر آزمایا نہیں گیا۔ اس لیے خدشہ ہے کہ اگر ایسا کرنا پڑا تو بعض کمپیوٹر سسٹمز اور ڈیجیٹل خدمات کو تکنیکی مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔

کیا دن اور رات کی مدت بدل جائے گی؟

لیپ سیکنڈ ختم کرنے سے زمین کی گردش، دن اور رات کی قدرتی مدت یا موسموں میں کوئی اچانک تبدیلی نہیں آئے گی۔ اس اقدام کا تعلق صرف وقت کی پیمائش کے عالمی طریقہ کار سے ہے۔

اگر گھڑیوں میں اضافی سیکنڈ شامل کرنا بند کر دیا گیا تو ایٹمی وقت اور زمین کی گردش پر مبنی وقت کے درمیان فرق بتدریج بڑھ سکتا ہے۔ اس فرق کو مستقبل میں کس حد تک بڑھنے دیا جائے اور اسے کب درست کیا جائے، یہ اہم سوالات ہوں گے۔

تجویز کردہ نظام میں اس فرق کی حد ایک گھنٹے تک رکھنے کا تصور بھی زیر بحث رہا ہے۔ اس سطح تک پہنچنے میں ممکنہ طور پر ہزاروں سال لگ سکتے ہیں، تاہم اصل مدت زمین کی گردش میں ہونے والی تبدیلیوں پر منحصر ہوگی۔

ماہرین کی رائے کیوں مختلف ہے؟

کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ لیپ سیکنڈ ختم کرنے سے کمپیوٹر اور مواصلاتی نظاموں کو درپیش مشکلات کم ہوں گی، جبکہ دوسرے ماہرین موجودہ نظام کے خاتمے سے پیدا ہونے والے نئے تکنیکی مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں۔

ان کے مطابق، عالمی وقت کو زمین کی گردش سے منسلک رکھنے کی بھی سائنسی اور تاریخی اہمیت ہے۔ نظام میں تبدیلی کے لیے مختلف اداروں کو اپنے سافٹ ویئر، آلات اور وقت کے حساب کے طریقوں کا جائزہ لینا پڑ سکتا ہے۔

مجموعی طور پر لیپ سیکنڈ کے مستقبل کا فیصلہ جدید ٹیکنالوجی کی ضروریات اور زمین کی قدرتی گردش کے ساتھ وقت کی مطابقت کے درمیان توازن قائم کرنے سے جڑا ہے۔ اس تبدیلی کا عام لوگوں کی روزمرہ زندگی پر براہ راست اثر محدود رہنے کا امکان ہے، تاہم عالمی ڈیجیٹل نظاموں میں وقت کے حساب کا طریقہ نمایاں طور پر تبدیل ہو سکتا ہے۔

Leave a reply