آئی ایم ایف پیٹرول سبسڈی جاری رکھنے پر رضامند، مستحقین کی تعداد بڑھانے سے روک دیا

0
7
آئی ایم ایف پیٹرول سبسڈی جاری رکھنے پر رضامند، مستحقین کی تعداد بڑھانے سے روک دیا

اسلام آباد: پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان جاری اقتصادی جائزہ مذاکرات میں پیٹرول سبسڈی سمیت مختلف معاشی امور پر گفتگو ہوئی ہے۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے پاکستان میں موجودہ پیٹرول ریلیف اسکیم جاری رکھنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم سبسڈی سے فائدہ اٹھانے والے افراد کی تعداد میں مزید اضافہ نہ کرنے پر زور دیا ہے۔

حکومت نے گزشتہ برس کم آمدنی والے پیٹرول صارفین کے لیے خصوصی ریلیف اسکیم متعارف کرائی تھی، جس کے تحت موٹرسائیکل، رکشہ اور چنگ چی رکشہ صارفین سمیت کم انجن والی گاڑیوں کے مالکان کو مخصوص مقدار میں پیٹرول پر مالی رعایت دی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران نئے صارفین کو اسکیم میں شامل کرنے اور رعایت کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرنے کے معاملے پر بھی بات ہوئی، تاہم آئی ایم ایف نے اس حوالے سے محتاط پالیسی اختیار کرنے کا کہا ہے۔

دوسری جانب صحت اور تعلیم کے اخراجات کا ہدف کم کرنے کی تجویز بھی مذاکرات کا حصہ ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ ہدف 4.2 ٹریلین روپے سے کم کرکے تقریباً 3.9 ٹریلین روپے مقرر کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

حکام کے مطابق گزشتہ مالی سال صحت اور تعلیم کے شعبوں میں اخراجات مقررہ ہدف سے کم رہے تھے، جبکہ صوبائی سطح پر بھی مختص رقوم کے مکمل استعمال میں مشکلات سامنے آئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق پنجاب اور سندھ نے آئی ایم ایف کو اپنے اہداف کے حصول میں درپیش مشکلات سے آگاہ کیا ہے، جبکہ خیبرپختونخوا نے مقررہ ہدف پورا کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ بلوچستان سمیت دیگر صوبوں کے صحت و تعلیم کے بجٹ پر بھی مذاکرات میں تفصیلی گفتگو ہوئی۔

مذاکرات کے دوران الیکٹرک گاڑیوں کے لیے جاری سبسڈی میں کمی کی تجویز بھی زیر غور آئی ہے۔ آئی ایم ایف حکام نے صوبوں کی جانب سے صحت اور تعلیم کے لیے مقررہ اخراجات پورے کرنے کی صلاحیت سے متعلق بھی سوالات اٹھائے ہیں۔

ذرائع کے مطابق پیٹرول سبسڈی کے معاملے پر حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان بنیادی اتفاق موجود ہے، تاہم عالمی مالیاتی ادارہ چاہتا ہے کہ موجودہ اسکیم کے دائرہ کار کو مزید وسیع نہ کیا جائے۔

Leave a reply