فرانس میں طلبہ کا احتجاج شدت اختیار کرگیا، 500 اسکول بند

فرانس میں طلبہ کے جاری احتجاج اور بعض مقامات پر امن و امان کی صورتحال کے باعث حکام نے آج تقریباً 500 اسکول بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کچھ تعلیمی اداروں میں تدریسی سرگرمیاں مکمل طور پر روک دی گئی ہیں جبکہ بعض اسکولوں میں جزوی طور پر کلاسز معطل رہیں گی۔
فرانسیسی حکام کے مطابق اسکولوں میں حالات معمول پر آنے کے بعد تعلیمی سرگرمیاں بتدریج بحال کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
طلبہ کا احتجاج گزشتہ ہفتے دارالحکومت پیرس سے شروع ہوا تھا، جو اب مون پلیے، نانت، مارسیلے اور دیگر شہروں تک پھیل چکا ہے۔ مظاہرین اساتذہ کی کمی، کلاسوں میں طلبہ کی زیادہ تعداد اور اسکولوں کی خستہ حال عمارتوں سمیت مختلف تعلیمی مسائل کے حل کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
حکام کے مطابق احتجاج کے دوران ملک بھر میں متعدد اسکول متاثر ہوئے ہیں۔ فرانسیسی وزیر انصاف کے مطابق تقریباً 735 اسکول کسی نہ کسی سطح پر پرتشدد مظاہروں سے متاثر ہوئے، جبکہ 24 تعلیمی اداروں میں توڑ پھوڑ یا آتشزدگی کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔
وزارتِ تعلیم کے مطابق احتجاج کے دوران محکمہ تعلیم کے درجنوں ملازمین زخمی ہوئے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ بعض عناصر نے طلبہ کے احتجاج میں شامل ہوکر مظاہروں کو پرتشدد رخ دیا، تاہم احتجاجی منتظمین حکومت پر مطالبات کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کر رہے ہیں۔
دوسری جانب پولیس کارروائیوں کے دوران بڑی تعداد میں گرفتاریاں بھی ہوئی ہیں۔ فرانسیسی حکام کے مطابق صرف جمعے کے روز 1,747 افراد کو حراست میں لیا گیا، جبکہ احتجاج شروع ہونے کے بعد مجموعی گرفتاریاں 5 ہزار سے تجاوز کر گئی ہیں۔
احتجاجی گروہوں نے حکومت سے مزید عملی اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے مظاہرے منگل کو بھی جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
فرانسیسی حکومت کا کہنا ہے کہ ہائی اسکول کے طلبہ اور تعلیمی عملے کو درپیش مسائل کے حل کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان میں اسکولوں کی سہولیات میں بہتری، تدریسی عمل کا تسلسل، اسکول اوقات کار کی بہتر تنظیم اور یونیورسٹی داخلوں کے نظام میں شفافیت بڑھانا شامل ہے۔
حکومت اسکولوں اور دیگر سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے والوں سے نقصانات کی رقم وصول کرنے سے متعلق مجوزہ قانون میں پیش رفت بھی تیز کرنے پر غور کر رہی ہے۔
پس منظر: فرانس میں طلبہ کی حالیہ تحریک بنیادی طور پر تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی کمی، بڑھتی ہوئی طلبہ تعداد اور اسکولوں کی ناقص عمارتوں کے خلاف شروع ہوئی تھی، تاہم گزشتہ چند دنوں میں بعض شہروں میں مظاہروں کے دوران تشدد اور املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔









