
ہارٹ اٹیک کے بعد معمول کی زندگی اور ورزش کی طرف واپسی ہر مریض کے لیے ایک جیسی نہیں ہوتی۔ ماہرین کے مطابق دل کے دورے کے بعد جسم کو مناسب وقت دینا، طبی نگرانی میں بحالی کا عمل مکمل کرنا اور ورزش بتدریج بڑھانا انتہائی ضروری ہے۔
دل کے دورے کے فوری بعد ڈاکٹرز کی توجہ مریض کی حالت مستحکم کرنے اور دل میں خون کی روانی بحال کرنے پر ہوتی ہے۔ صورتحال کے مطابق ادویات، انجیوگرافی، انجیوپلاسٹی یا بائی پاس سرجری کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔
ہلکی واک کب شروع کی جا سکتی ہے؟
مریض کی حالت مستحکم ہونے کے بعد مکمل بستر آرام کے بجائے محدود اور ہلکی جسمانی سرگرمی شروع کروائی جا سکتی ہے۔ بعض مریضوں میں ہسپتال میں ہی مختصر واک سے بحالی کا آغاز کیا جاتا ہے۔
ابتدا میں کمرے کے اندر چلنے کے بعد فزیوتھراپسٹ یا طبی عملے کی نگرانی میں ہسپتال کے کوریڈور میں واک کروائی جا سکتی ہے۔ سانس کی ہلکی ورزشیں بھی بحالی کے پروگرام کا حصہ بن سکتی ہیں۔
گھر جانے کے بعد کن باتوں کا خیال رکھیں؟
ڈسچارج سے قبل ڈاکٹرز مریض کی جسمانی برداشت کا جائزہ لیتے ہیں۔ گھر واپس آنے کے بعد بھی بھاری وزن اٹھانے اور انتہائی سخت ورزش سے گریز کرنا ضروری ہوتا ہے۔
ابتدائی مرحلے میں ہلکی رفتار سے واک نسبتاً مناسب سرگرمی سمجھی جاتی ہے، تاہم اس کی مدت اور رفتار مریض کی طبی حالت کے مطابق طے کی جانی چاہیے۔ جسم بہتر طور پر ورزش برداشت کرنے لگے تو سرگرمی میں بتدریج اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
جم جانے کے لیے کتنا انتظار ضروری ہے؟
ہارٹ اٹیک کے فوراً بعد جم یا سخت ورزش شروع کرنا مناسب نہیں۔ بعض مریضوں کو کئی ہفتوں تک شدید ورزش سے دور رہنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔
عمومی طور پر ہلکی ورزش کی طرف واپسی طبی معائنے اور کارڈیک ری ہیبلیٹیشن کے پروگرام کے تحت کی جاتی ہے۔ وزنی ورزش، تیز ٹریڈمل یا زیادہ شدت والی ایکسرسائز شروع کرنے سے پہلے اپنے کارڈیالوجسٹ سے اجازت لینا ضروری ہے۔
جو افراد ہارٹ اٹیک سے پہلے باقاعدگی سے سخت ورزش یا کھیلوں میں حصہ لیتے تھے، انہیں بھی براہِ راست پرانی روٹین پر واپس جانے کے بجائے مرحلہ وار تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ بعض حالات میں ڈاکٹر ورزش برداشت کرنے کی صلاحیت جانچنے کے لیے ٹیسٹ بھی تجویز کر سکتے ہیں۔
کارڈیک ری ہیبلیٹیشن کیوں اہم ہے؟
کارڈیک ری ہیبلیٹیشن کا مقصد صرف ورزش دوبارہ شروع کروانا نہیں بلکہ مریض کو محفوظ طریقے سے روزمرہ زندگی کی طرف واپس لانا بھی ہے۔ اس میں ورزش، ادویات، غذائی عادات اور دل کے لیے خطرے کے عوامل کو قابو میں رکھنے سے متعلق رہنمائی شامل ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ہارٹ اٹیک کے بعد فٹنس کی طرف واپسی ممکن ہے، لیکن اس کا وقت مریض کی عمر، دل کو پہنچنے والے نقصان، علاج کی نوعیت اور مجموعی صحت سمیت کئی عوامل پر منحصر ہوتا ہے۔
اہم بات: ہارٹ اٹیک کے بعد جم، دوڑ، ویٹ لفٹنگ یا کسی بھی سخت ورزش کا آغاز خود سے نہ کریں۔ سینے میں درد، غیر معمولی سانس پھولنے، چکر آنے یا دل کی دھڑکن میں غیر معمولی تبدیلی کی صورت میں ورزش روک کر فوری طبی مدد حاصل کریں۔









