فارماسیوٹیکل ڈسٹری بیوٹرز پر ٹرن اوور ٹیکس بڑھا دیا گیا

0
18
فارماسیوٹیکل ڈسٹری بیوٹرز پر ٹرن اوور ٹیکس بڑھا دیا گیا

اسلام آباد: حکومت پاکستان نے مالی سال 2026-27 کے لیے فارماسیوٹیکل ڈسٹری بیوٹرز، ڈیلرز، سب ڈیلرز اور اشیا کے تھوک فروشوں پر کم از کم ٹرن اوور ٹیکس کی شرح بڑھا کر 0.5 فیصد مقرر کردی ہے۔

نئی شرح کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا، جبکہ گزشتہ مالی سال میں یہی شرح 0.25 فیصد تھی۔ ابتدائی بجٹ تجاویز میں اس ٹیکس کو 1.25 فیصد تک بڑھانے کی تجویز سامنے آئی تھی، تاہم مشاورت کے بعد اسے 0.5 فیصد پر مقرر کیا گیا۔

فارماسیوٹیکل شعبے کے نمائندوں کے مطابق ڈسٹری بیوشن کا کاروبار زیادہ ٹرن اوور لیکن نسبتاً کم منافع پر چلتا ہے، اس لیے ٹرن اوور ٹیکس میں اضافے سے کاروباری اخراجات اور منافع کے مارجن پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

صنعتی نمائندوں کا کہنا ہے کہ اگر ٹیکس کی شرح 1.25 فیصد کردی جاتی تو ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کی مالی مشکلات میں اضافہ ہوسکتا تھا، جس کے اثرات ادویات کی سپلائی اور مارکیٹ میں دستیابی پر بھی پڑنے کا خدشہ تھا۔

ان کے مطابق ادویات کی ترسیل میں عام نقل و حمل کے علاوہ درجہ حرارت کے حوالے سے حساس مصنوعات کے لیے خصوصی سہولیات بھی درکار ہوتی ہیں، جس سے لاگت مزید بڑھ جاتی ہے۔

دوسری جانب فارماسیوٹیکل صنعت کو بجٹ 2026-27 میں بعض شعبوں میں ریلیف بھی ملا ہے۔ صنعت کے مطابق تقریباً 100 ایکٹو فارماسیوٹیکل انگریڈیئنٹس پر درآمدی ڈیوٹی ختم کرکے انہیں زیرو ریٹ پر منتقل کیا گیا ہے، جن میں بعض ضروری اور کینسر کی ادویات کی تیاری میں استعمال ہونے والا خام مال بھی شامل ہے۔

اسی طرح 500 ملین روپے سے کم سالانہ آمدن رکھنے والے کاروباروں کے لیے سپر ٹیکس ختم کیا گیا ہے، جبکہ اس حد سے زیادہ آمدن رکھنے والوں کے لیے سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کردی گئی ہے۔

فارماسیوٹیکل صنعت نے برآمدات کے حوالے سے بھی بعض مشکلات کی نشاندہی کی ہے۔ صنعت کے نمائندوں کے مطابق افغانستان کے ساتھ سرحدی صورتحال کے باعث برآمدی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں، جبکہ افغانستان پاکستان کی ادویات کے لیے اہم برآمدی منڈیوں میں شامل رہا ہے۔

صنعتی ماہرین کے مطابق پاکستان کی فارماسیوٹیکل برآمدات کو بڑھانے کے لیے برآمد کنندگان کو مالی سہولت، کم شرح پر فنانسنگ اور بین الاقوامی معیار کی منظوری حاصل کرنے میں معاونت فراہم کرنا ضروری ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ عالمی ادارۂ صحت کی پری کوالیفکیشن اور دیگر بین الاقوامی سرٹیفکیشن حاصل کرنے والی کمپنیوں کی تعداد بڑھا کر پاکستان زیادہ منافع والی عالمی مارکیٹوں میں اپنی ادویات کی رسائی بہتر بنا سکتا ہے۔

صنعتی نمائندوں کے مطابق پاکستان کی فارماسیوٹیکل برآمدات کو مستقبل میں مزید وسعت دینے کے لیے بین الاقوامی معیار پر پورا اترنے والی کمپنیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ضروری ہے۔

Leave a reply