
اسلام آباد: پاکستان تحریکِ انصاف نے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ اور احتجاج کی تاریخ تبدیل کرکے 4 اکتوبر مقرر کردی ہے، تاہم نئی تاریخ کے اعلان کے باوجود اسلام آباد اور راولپنڈی میں سیکیورٹی کے انتظامات بدستور برقرار ہیں۔
جڑواں شہروں کی اہم شاہراہوں پر کنٹینرز موجود ہیں جبکہ پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار تعینات ہیں۔ وفاقی دارالحکومت کے ریڈ زون میں بھی سیکیورٹی پابندیاں برقرار رکھی گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق احتجاج کے ممکنہ پیش نظر سندھ، پنجاب اور آزاد کشمیر پولیس کے اہلکار بھی اسلام آباد میں ڈیوٹی پر موجود ہیں۔
دوسری جانب فیض آباد اور مری روڈ کے اطراف صورتحال میں کچھ نرمی کی گئی ہے۔ انتظامیہ نے چند روز سے بند ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس کو 2 اکتوبر تک مشروط طور پر کھولنے کی اجازت دے دی ہے۔
علاقے میں بعض مقامات پر رکاوٹیں اور کنٹینرز موجود ہونے کے باوجود سڑکوں، تعلیمی اداروں اور بس اڈوں کی سرگرمیاں جاری ہیں۔ میٹرو، گرین اور بلیو بس سروس بھی بحال کردی گئی ہے، تاہم بین الصوبائی ٹرانسپورٹ کی آمدورفت اب بھی محدود بتائی جاتی ہے۔
ادھر اٹک پل پر پیش آنے والے واقعات کے حوالے سے اٹک خورد پولیس اسٹیشن میں 250 پی ٹی آئی کارکنوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق مقدمے میں 8 سنگین دفعات شامل کی گئی ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ بعض افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے اور ان پر سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے سمیت مختلف الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
حکام کے مطابق واقعے میں سرکاری املاک کو ہونے والے نقصان کا قانونی طور پر جائزہ لیا جائے گا اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔









