یمن: تعز میں حکومتی فورسز اور حوثیوں کے درمیان شدید لڑائی، ہلاکتوں کا دعویٰ

تعز: یمن کے مغربی صوبے تعز میں حکومتی فورسز اور حوثی جنگجوؤں کے درمیان گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران شدید جھڑپیں ہوئی ہیں، جن میں درجنوں حوثی جنگجوؤں کی ہلاکت اور متعدد کے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
یمنی فوج کے مطابق لڑائی تعز کے مغربی ضلع الوزیہ کے مختلف محاذوں پر ہوئی، جہاں حکومتی فورسز نے حوثیوں کے ٹھکانوں، گاڑیوں اور جنگجوؤں کی نقل و حرکت کو نشانہ بنایا۔
فوجی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ کارروائیوں کے دوران تقریباً 30 حوثی جنگجو مارے گئے جبکہ 60 سے زائد زخمی ہوئے۔ حکومتی فورسز کا کہنا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے کیے گئے متعدد حملوں کو بھی پسپا کیا گیا۔
یمنی فوج کے مطابق فضائی کارروائیوں میں حوثیوں کے جنگجوؤں کے اجتماع اور کمک پہنچانے کے راستوں کو نشانہ بنایا گیا۔ تعز کے علاوہ ساحلی شہر المخا کے اطراف میں بھی حوثی جنگجوؤں کی نقل و حرکت کے خلاف کارروائیاں جاری رہنے کا بتایا گیا ہے۔
دوسری جانب حوثیوں سے وابستہ میڈیا نے بھی یمن کے مختلف علاقوں میں سعودی فضائی حملوں کی اطلاعات دی ہیں۔ حوثی ذرائع کے مطابق تعز میں مواصلاتی نظام سے منسلک بعض ٹاورز کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ حجہ اور دیگر علاقوں میں بھی حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
حوثی حمایت یافتہ ذرائع نے بعض حملوں میں شہریوں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کا دعویٰ بھی کیا ہے، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے فوری تصدیق نہیں ہوسکی۔
یمن میں جاری کشیدگی کے اثرات سعودی عرب تک پہنچنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ سعودی حکام کے مطابق جنوب مغربی علاقے میں ایک حوثی ڈرون کو روکنے کی کارروائی کے نتیجے میں ایک یمنی شہری ہلاک اور دو افراد زخمی ہوئے۔
مسلسل لڑائی کے باعث بعض یمنی شہری محفوظ علاقوں کی جانب منتقل ہونے پر مجبور ہیں، جبکہ بحیرہ احمر میں کشیدگی نے خطے میں تجارتی اور تیل کی ترسیل کے راستوں سے متعلق خدشات بھی بڑھا دیے ہیں۔
یمن میں تازہ جھڑپیں ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب خطے میں عسکری کشیدگی کے باعث بحیرہ احمر اور خلیجی خطے کے اہم تجارتی راستوں کی سلامتی پر بھی توجہ مرکوز ہے۔









