مقدس مقامات سے متعلق ڈرون دعویٰ، ایران کا اہم ردعمل

0
23
مقدس مقامات سے متعلق ڈرون دعویٰ، ایران کا اہم ردعمل

تہران: مکہ مکرمہ کی جانب مبینہ ڈرون پرواز اور اسے سعودی دفاعی نظام کی جانب سے روکنے کے دعوے کے بعد ایران نے مقدس مقامات اور زائرین کے تحفظ پر زور دیا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ مکہ مکرمہ کی سمت کسی ڈرون کو مار گرائے جانے کا صرف دعویٰ کسی مخصوص فریق کو ذمہ دار ٹھہرانے کے لیے کافی نہیں۔ ان کے مطابق یمن کی جانب سے بھی اس دعوے کی تردید سامنے آ چکی ہے۔

ایرانی ترجمان نے کہا کہ مکہ، مدینہ اور مسجد اقصیٰ سمیت اسلامی مقدس مقامات کے معاملے کو سیاسی یا سیکیورٹی تنازعات کا حصہ بنانے سے گریز کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے معاملات کو خطے میں اختلافات اور کشیدگی بڑھانے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

اسماعیل بقائی نے اپنے بیان میں خطے میں ماضی میں سامنے آنے والے مبینہ ’’فالس فلیگ‘‘ واقعات کا بھی حوالہ دیا اور تمام فریقوں کو صورتحال کے بارے میں محتاط رویہ اختیار کرنے کی اپیل کی۔

یہ ردعمل سعودی حکام کے اس دعوے کے بعد سامنے آیا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے مکہ مکرمہ کی سمت ایک ڈرون بھیجا گیا تھا، جسے سعودی فضائی دفاع نے روک کر تباہ کر دیا۔ حوثی حکام نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔

سعودی زیرِ قیادت اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی کے مطابق ڈرون مکہ مکرمہ کے جنوب میں ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہوا تھا اور اسے مقدس شہر کے اوپر پہنچنے سے قبل روک لیا گیا۔

سعودی حکام نے اس واقعے کو مکہ مکرمہ کو مبینہ طور پر نشانہ بنانے کی ایک اور کوشش قرار دیا ہے، تاہم ڈرون کے ماخذ اور ذمہ داری سے متعلق فریقین کے بیانات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔

Leave a reply