ایران کا سعودی عرب سے جنگ یا حوثیوں کے حملوں سے تعلق کا الزام مسترد

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سعودی عرب کے ساتھ کسی بھی جنگ یا براہِ راست تنازع کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یمن کے حوثی اپنے معاملات اور فیصلوں میں آزاد ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کی ایک تیل تنصیب پر ڈرون اور میزائل حملوں کے حوالے سے ایران کے ملوث ہونے کا امکان ظاہر کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ حوثی بھی مزید لڑائی کے خواہاں نہیں ہیں۔
ایرانی صدر نے ان الزامات کے جواب میں کہا کہ تہران اور ریاض کے درمیان جنگ کی کوئی صورتحال نہیں، جبکہ یمن سے متعلق فیصلے حوثی خود کرتے ہیں۔ انہوں نے خطے کے ممالک پر زور دیا کہ وہ باہمی تعاون کے ذریعے امن اور علاقائی سلامتی کو فروغ دیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی کشیدگی کم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یمن کے بحران کا حل فوجی کارروائیوں میں اضافے سے نہیں نکل سکتا۔
ان کے مطابق ایران یمن اور سعودی عرب کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کو تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں دیرپا امن کے لیے یمن کی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کا احترام بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔









