
ویب ڈیسک: بلڈ پریشر کو معمول پر رکھنے کے لیے باقاعدہ جسمانی سرگرمی کو اہم سمجھا جاتا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق روزانہ مختصر دورانیے کی بعض ورزشیں بھی صحت پر مثبت اثر ڈال سکتی ہیں۔
پلینک ایسی ہی ایک ورزش ہے جس میں جسم کو ایک مخصوص پوزیشن میں چند سیکنڈز یا منٹ تک برقرار رکھا جاتا ہے۔ اس دوران پیٹ، کندھوں، کمر اور کولہوں سمیت جسم کے کئی بڑے پٹھے متحرک رہتے ہیں۔ چونکہ اس ورزش میں جسم کی نمایاں حرکت نہیں ہوتی، اس لیے اسے آئسومیٹرک ورزشوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
تحقیق کے مطابق آئسومیٹرک ورزشیں باقاعدگی سے کی جائیں تو بلڈ پریشر کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوسکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق پٹھوں کو کچھ دیر تناؤ میں رکھنے کے بعد آرام دینے سے خون کی نالیوں کے افعال پر مثبت اثر پڑ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں طویل مدت میں بلڈ پریشر کو بہتر رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
ورزش شروع کرنے والے افراد کے لیے بہتر ہے کہ وہ ابتدا میں 20 سے 30 سیکنڈ تک پلینک کریں اور جسمانی استعداد کے مطابق بتدریج دورانیہ بڑھائیں۔ ایک منٹ تک پلینک کرنا ہدف بنایا جاسکتا ہے، تاہم ورزش کے دوران جسم کو درست پوزیشن میں رکھنا اور سانس معمول کے مطابق لیتے رہنا ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق اسے ہفتے میں چند مرتبہ دیگر صحت مند جسمانی سرگرمیوں کے ساتھ شامل کیا جاسکتا ہے۔ تاہم ہائی بلڈ پریشر یا کسی دوسرے طبی مسئلے میں مبتلا افراد کو نئی ورزش شروع کرنے سے پہلے اپنے معالج سے مشورہ کرنا چاہیے۔
خاص طور پر ورزش کے دوران سانس روکنے یا خود کو ضرورت سے زیادہ تھکانے سے گریز کرنا چاہیے، کیونکہ سخت جسمانی دباؤ کے دوران بلڈ پریشر عارضی طور پر بڑھ سکتا ہے۔
واضح رہے کہ پلینک یا کوئی بھی ورزش ہائی بلڈ پریشر کی دوا اور ڈاکٹر کے تجویز کردہ علاج کا متبادل نہیں۔ اسے صرف متوازن غذا، مناسب جسمانی سرگرمی اور صحت مند طرز زندگی کے ایک حصے کے طور پر اختیار کیا جانا چاہیے۔









