سعودی آئل پائپ لائن حملے کے بعد بند، خطے میں توانائی سپلائی کو خطرات بڑھ گئے

ریاض: سعودی عرب نے اہم ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کو حالیہ فضائی حملے کے بعد عارضی طور پر بند کردیا ہے، جس کے باعث مشرق وسطیٰ میں تیل کی ترسیل اور عالمی توانائی سپلائی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہوگیا ہے۔
سعودی حکام کے مطابق تقریباً 1200 کلومیٹر طویل پائپ لائن کو حفاظتی اقدام کے طور پر بند کیا گیا۔ یہ تنصیب ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں حملوں سے متاثر ہوئی، جبکہ واقعے کے بعد مدینہ کے جنوب میں پائپ لائن کے قریب دھویں کے بادل بھی دیکھے گئے۔
سعودی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ حملے میں بعض افراد زخمی ہوئے ہیں اور پائپ لائن کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ حکام نے فی الحال یہ واضح نہیں کیا کہ واقعے سے سعودی تیل کی برآمدات پر کتنا اثر پڑا ہے۔
سعودی عرب اور عراق نے حملے کا الزام عراق میں موجود ایران نواز مسلح گروہوں پر عائد کیا ہے۔ واقعے کے بعد عراقی حکومت نے ایک فوجی کمانڈر کو عہدے سے ہٹا دیا، جو صوبہ میسان میں فوجی سرگرمیوں کی نگرانی کر رہے تھے۔
سعودی حکومت نے عراقی وزیراعظم کی درخواست پر فوری فوجی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم سعودی وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ مملکت اپنے قومی مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کا حق برقرار رکھتی ہے۔
ایسٹ ویسٹ پائپ لائن سعودی عرب کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ اس کے ذریعے تیل کو آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر بحیرہ احمر کی جانب منتقل کیا جاسکتا ہے۔ حالیہ عرصے میں اس راستے سے روزانہ تقریباً 40 سے 50 لاکھ بیرل خام تیل منتقل ہونے کی اطلاعات ہیں۔
دوسری جانب بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب میں حوثی جنگجوؤں کی سرگرمیوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق حوثیوں نے باب المندب کے قریب واقع پریم جزیرے پر بھی قبضہ کرلیا ہے، جس سے خطے میں بحری آمدورفت کے خطرات بڑھنے کا خدشہ ہے۔
عالمی توانائی مارکیٹ پہلے ہی آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے باعث دباؤ کا شکار ہے۔ تازہ پیش رفت کے بعد خام تیل کی قیمت دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق سعودی خام تیل کی سپلائی کئی دہائیوں کی کم ترین سطح تک پہنچ چکی ہے۔ ایجنسی نے خطے میں بحری جہازوں کو درپیش سیکیورٹی خطرات کو بھی توانائی سپلائی میں کمی کی وجوہات میں شامل کیا ہے۔
ادھر عراق نے ایران کے ساتھ اہم شلمچہ سرحدی گزرگاہ کو بھی عارضی طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق یہ راستہ ایران سے عراق کو خوراک اور سبزیوں سمیت مختلف اشیا کی ترسیل کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔
یمن میں بھی حوثیوں کی حالیہ پیش قدمی کے بعد صورتحال کشیدہ ہے۔ یمنی حکومتی فورسز نے حوثیوں کے زیر قبضہ بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
ایران اور حوثیوں کے تعلقات بھی ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ بعض ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی حکام نے حوثیوں کو سعودی عرب کے خلاف کارروائیاں بڑھانے کی ہدایت دی ہے، تاہم ایران حوثیوں کو براہِ راست فوجی احکامات دینے کی تردید کرتا ہے۔
حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے بھی بیان دیا ہے کہ سعودی بحری جہازوں کے علاوہ دیگر بحری جہازوں کی آمدورفت کو محفوظ سمجھا جائے گا، جبکہ سعودی جہازوں پر پہلے سے اعلان کردہ پابندی برقرار رہے گی۔
دریں اثنا سعودی عرب نے حوثیوں سے نمٹنے کے لیے امریکا سے مدد طلب کی ہے۔ ذرائع کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے صورتحال پر بات چیت کی اور فوجی معاونت کی درخواست کی۔
امریکا نے تاحال براہِ راست فوجی کارروائی میں شامل ہونے سے گریز کیا ہے، تاہم سعودی عرب کو انٹیلی جنس اور اہداف سے متعلق معلومات فراہم کرنے میں تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث ماہرین کو خدشہ ہے کہ اگر حملے اور بحری رکاوٹیں برقرار رہیں تو عالمی تیل سپلائی، شپنگ اخراجات اور توانائی کی قیمتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔









