جنگ کے بعد سفارت کاری کا امتحان

جنگ کے بعد سفارت کاری کا امتحان

تحریر:محمد رشید

جنگ صرف میدانِ جنگ میں نہیں لڑی جاتی۔ اس کے اثرات سرحدوں سے نکل کر سفارت خانوں، عالمی منڈیوں، بندرگاہوں اور مذاکرات کی میز تک پہنچتے ہیں۔ جدید دنیا میں کسی ریاست کی اصل طاقت کا اندازہ صرف اس کے جنگی طیاروں، میزائلوں یا فوجی دستوں سے نہیں بلکہ اس صلاحیت سے بھی لگایا جاتا ہے کہ وہ بحران کے بعد امن کی راہ کس قدر مؤثر انداز میں ہموار کر سکتی ہے۔

پاکستان کے لیے حالیہ علاقائی حالات نے ایک نیا سفارتی موقع پیدا کیا ہے۔ بھارت کے ساتھ عسکری کشیدگی کے بعد پاکستان نے جس انداز میں اپنی دفاعی صلاحیت کا اظہار کیا، اس کے بعد خطے میں اسلام آباد کی سفارتی اہمیت بھی زیرِ بحث آئی۔ تاہم کسی بھی جنگ کے نتائج کو محض ایک فریق کی کامیابی یا دوسرے کی ناکامی تک محدود کرنا درست نہیں۔ جنگ میں انسانی جانوں کا نقصان، معاشی دباؤ، سیاسی بے یقینی اور خطے کے مستقبل پر پڑنے والے اثرات بھی اتنے ہی اہم ہوتے ہیں۔

آج اصل چیلنج یہ ہے کہ عسکری محاذ پر پیدا ہونے والی کشیدگی کو سفارتی محاذ پر مستقل امن میں کیسے تبدیل کیا جائے۔

پاکستان اور ایران کے درمیان حالیہ رابطے اسی تناظر میں اہمیت رکھتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی نے مشرقِ وسطیٰ ہی نہیں بلکہ پوری عالمی معیشت کو متاثر کرنے کے امکانات پیدا کیے ہیں۔ خصوصاً آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ یہاں پیدا ہونے والی طویل کشیدگی تیل کی قیمتوں، عالمی تجارت اور ایشیا کی معیشتوں پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

ایسے ماحول میں پاکستان کے لیے سب سے مناسب راستہ یہی ہے کہ وہ کسی ایک فریق کا ترجمان بننے کے بجائے ایک قابلِ اعتماد ثالث کا کردار ادا کرے۔ اسلام آباد کے لیے یہ ایک مشکل مگر اہم سفارتی امتحان ہے، کیونکہ امریکا کے ساتھ پاکستان کے تعلقات اپنی جگہ اہم ہیں جبکہ ایران ایک ہمسایہ ملک ہے جس کے ساتھ پاکستان کے تاریخی، مذہبی، ثقافتی اور جغرافیائی روابط موجود ہیں۔

دوسری طرف ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کی کوششیں بھی عالمی سیاست میں ایک نئے مرحلے کی نشاندہی کرتی ہیں۔ اقتصادی پابندیاں عموماً فوری فوجی کارروائی سے مختلف نوعیت کی جنگ ہوتی ہیں۔ ان کے اثرات براہِ راست عوام، کاروبار، بینکاری، تجارت اور سرمایہ کاری تک پہنچتے ہیں۔ اگر بڑی طاقتیں پابندیوں کو خارجہ پالیسی کے بنیادی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی رہیں تو دنیا مزید ایسے معاشی بلاکس میں تقسیم ہو سکتی ہے جہاں تجارت بھی سیاسی وابستگی کی بنیاد پر ہونے لگے۔

چین کا ایران کے ساتھ بڑھتا ہوا معاشی تعاون اس بڑی عالمی تبدیلی کی ایک مثال ہے۔ بیجنگ عموماً یک طرفہ پابندیوں کے بجائے مذاکرات اور سیاسی حل پر زور دیتا ہے، کیونکہ چین خود بھی ایک ایسے عالمی معاشی نظام میں اپنے مفادات کا تحفظ چاہتا ہے جہاں تجارت نسبتاً آزاد اور قابلِ پیش گوئی رہے۔

پاکستان کے لیے اس صورتِ حال میں سب سے بڑا موقع امن کا داعی بننے کا ہے۔ اگر اسلام آباد امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں کوئی مثبت کردار ادا کرتا ہے تو اس کے اثرات پاکستان کی عالمی ساکھ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ خطے کے امن اور پاکستانی معیشت کے لیے بھی فائدہ مند ہو سکتے ہیں۔

تاہم سفارت کاری میں کامیابی کا معیار بلند بانگ دعوے نہیں بلکہ عملی نتائج ہوتے ہیں۔ کسی تنازع کو ختم کرانا، فریقین کو مذاکرات پر آمادہ کرنا اور پھر کسی قابلِ قبول سمجھوتے تک پہنچنا ایک طویل اور پیچیدہ عمل ہے۔ اس لیے پاکستان کو جذباتی بیانات کے بجائے محتاط، متوازن اور مستقل سفارتی حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔

ماضی میں دنیا نے بارہا دیکھا ہے کہ طاقت کے زور پر حاصل ہونے والی برتری دیرپا امن کی ضمانت نہیں بنتی۔ اصل کامیابی اس وقت ہوتی ہے جب جنگ کے امکانات کو مذاکرات کے امکانات میں تبدیل کر دیا جائے۔

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اسے اس حوالے سے غیر معمولی اہمیت دیتی ہے۔ ایک طرف جنوبی ایشیا، دوسری طرف ایران اور خلیج، جبکہ چین کے ساتھ گہرے معاشی روابط پاکستان کو علاقائی رابطے کا ایک اہم مرکز بناتے ہیں۔ اگر اسلام آباد اپنی اس جغرافیائی اہمیت کو دانش مندانہ سفارت کاری کے ساتھ استعمال کرے تو وہ نہ صرف اپنے قومی مفادات کا تحفظ کر سکتا ہے بلکہ خطے میں امن کے لیے بھی مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔

آج دنیا کو مزید جنگوں کی نہیں، مزید مذاکرات کی ضرورت ہے۔ میزائلوں کی طاقت اپنی جگہ، مگر سفارت کاری کی کامیابی وہ ہوتی ہے جس میں میزائل چلانے کی ضرورت ہی باقی نہ رہے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک موقع بھی ہیں اور امتحان بھی۔ اگر اسلام آباد نے توازن، تدبر اور مستقل مزاجی کے ساتھ اپنا کردار ادا کیا تو ممکن ہے کہ آنے والے برسوں میں پاکستان کو صرف ایک دفاعی قوت کے طور پر نہیں بلکہ ایک مؤثر علاقائی سفارتی مرکز کے طور پر بھی دیکھا جائے۔

Leave a reply