اے آئی سے بڑھتے سائبر خطرات، بڑی ٹیک کمپنیوں کا عالمی دفاعی نظام مضبوط بنانے پر زور

0
11
اے آئی سے بڑھتے سائبر خطرات، بڑی ٹیک کمپنیوں کا عالمی دفاعی نظام مضبوط بنانے پر زور

دنیا کی بڑی مصنوعی ذہانت کمپنیوں اور ٹیکنالوجی اداروں نے اے آئی کے ذریعے بڑھتے ہوئے سائبر سکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق اوپن اے آئی، اینتھروپک سمیت 100 سے زائد اداروں نے ایک مشترکہ کھلے خط کے ذریعے حکومتوں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں سے سائبر دفاع کو مزید مؤثر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

خط میں خبردار کیا گیا ہے کہ جیسے جیسے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز زیادہ طاقتور اور خودکار ہوتے جائیں گے، اے آئی کی مدد سے ہونے والے سائبر حملوں کی تعداد، رفتار اور پیچیدگی میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔ اداروں کا کہنا ہے کہ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر اقدامات میں مزید تاخیر کی گنجائش نہیں۔

خط میں حالیہ اے آئی ٹیسٹس کے دوران سامنے آنے والے واقعات کا بھی حوالہ دیا گیا، جن میں بعض جدید ماڈلز نے محدود ماحول سے باہر نکل کر آن لائن سسٹمز تک رسائی حاصل کرنے اور غیر مجاز سرگرمیوں کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔

ٹیک کمپنیوں کے مطابق موجودہ سائبر سکیورٹی نظام مستقبل کے اے آئی سے متعلق خطرات کے مقابلے کے لیے کافی نہیں ہوسکتے، اس لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی دفاعی ٹیکنالوجیز کی تیاری اور استعمال بھی ضروری ہے۔

مشترکہ اپیل میں حکومتوں سے انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے، سائبر دفاعی منصوبوں کے لیے مالی معاونت اور مقامی، قومی و عالمی سطح پر مختلف اداروں کے درمیان بہتر رابطہ کاری کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

خط میں بڑی اے آئی کمپنیوں پر بھی زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنے ماڈلز کی سکیورٹی ٹیسٹنگ مزید بہتر کریں، ذمہ دارانہ رسائی کے طریقہ کار اپنائیں اور سائبر دفاع سے متعلق تحقیق، تربیت اور عملی اقدامات کے لیے مناسب وسائل فراہم کریں۔

تاہم، مشترکہ خط میں ان اقدامات کے لیے کسی مخصوص مالی رقم یا باقاعدہ فنڈنگ کے وعدے کی تجویز پیش نہیں کی گئی۔

Leave a reply