
چین کے معروف ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم بلی بلی (Bilibili) نے عالمی مارکیٹ میں اپنی رسائی بڑھانے کے لیے غیر ملکی صارفین اور کانٹینٹ کریئیٹرز کے لیے پلیٹ فارم کو مزید آسان بنانے کی کوششیں تیز کردی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق پلیٹ فارم کے بین الاقوامی ورژن میں رجسٹریشن کا طریقہ پہلے کے مقابلے میں آسان بنایا گیا ہے جبکہ غیر ملکی صارفین کے لیے لازمی شناختی دستاویز کی تصدیق کی شرط بھی ختم کی گئی ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اطلاعات میں یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ بلی بلی بعض تخلیق کاروں کو ہر ایک ہزار ویوز پر تقریباً 70 سینٹ ادا کرنے کی پیشکش کر رہا ہے۔ پاکستانی کرنسی میں یہ رقم تقریباً 194 روپے بنتی ہے۔ تاہم بلی بلی نے عالمی سطح پر ایسی مقررہ ادائیگی کی شرح کی باضابطہ تصدیق نہیں کی، اس لیے اسے حتمی کمائی کا معیار قرار نہیں دیا جاسکتا۔
چینی میڈیا رپورٹس کے مطابق بلی بلی اپنے عالمی ورژن کو غیر ملکی صارفین کے لیے زیادہ موزوں بنانے پر کام کر رہا ہے۔ اس میں آسان سائن اپ، مقامی نوعیت کا صارف تجربہ اور بیرون ملک کریئیٹرز کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے نئی سہولیات شامل ہیں۔
بلی بلی کی عالمی حکمت عملی کو اس وقت مزید توجہ ملی جب غیر چینی کریئیٹرز نے بھی پلیٹ فارم پر اپنا مواد شائع کرنا شروع کیا۔ معروف یوٹیوبر مسٹر بیسٹ نے بھی 2024 میں بلی بلی پر ویڈیوز پوسٹ کرنا شروع کیں، جہاں ان کے فالوورز کی تعداد لاکھوں میں پہنچ چکی ہے۔
بلی بلی نے 2009 میں اپنے سفر کا آغاز کیا تھا اور چین میں خاص طور پر نوجوان صارفین کے درمیان ایک مضبوط مقام بنایا۔ پلیٹ فارم پر اینیمیشن، گیمنگ، اے آئی اور دیگر مخصوص موضوعات سے متعلق بڑی آن لائن کمیونٹیز موجود ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر بلی بلی عالمی سطح پر کریئیٹرز کو راغب کرنے میں کامیاب ہوتا ہے تو آن لائن ویڈیو پلیٹ فارمز کے درمیان مقابلہ مزید بڑھ سکتا ہے۔ تاہم صرف فی ہزار ویوز ملنے والی رقم کو کامیابی کا پیمانہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ کسی کریئیٹر کی مجموعی آمدنی کا انحصار ناظرین کی تعداد، اشتہارات، مواد کی نوعیت اور پلیٹ فارم کے کمائی کے مکمل نظام پر بھی ہوتا ہے۔
بلی بلی کی ایک نمایاں خصوصیت اس کا ڈان مو کمنٹ سسٹم ہے۔ اس فیچر میں صارفین کے تبصرے ویڈیو کے دوران اسکرین پر براہ راست دکھائی دیتے ہیں، جس سے ناظرین کو ویڈیو کے ساتھ ساتھ دوسرے صارفین کے ردعمل اور گفتگو کا حصہ بننے کا تجربہ ملتا ہے۔
اگر پلیٹ فارم مغربی اور دیگر عالمی مارکیٹوں میں اپنی صارف اور کریئیٹر کمیونٹی کو نمایاں طور پر بڑھانے میں کامیاب ہوگیا تو بلی بلی مستقبل میں یوٹیوب کے لیے ایک قابلِ ذکر متبادل بن سکتا ہے۔ تاہم اس وقت اسے یوٹیوب کا مکمل عالمی متبادل قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔
اہم بات: بلی بلی کی جانب سے 0.70 ڈالر فی ہزار ویوز کی مبینہ ادائیگی کی شرح ابھی حتمی طور پر تصدیق شدہ نہیں، اس لیے کریئیٹرز کو اسے یقینی آمدنی سمجھنے سے گریز کرنا چاہیے۔









