پانی کے ریلے نے سب کچھ نگل لیا، 1500 افراد لاپتا

0
9
پانی کے ریلے نے سب کچھ نگل لیا، 1500 افراد لاپتا

نیپال اور چین کے علاقے تبت میں اچانک آنے والے شدید سیلاب اور ملبے کے ریلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ حکام کے مطابق نیپال اور تبت میں مجموعی طور پر تقریباً 1500 افراد لاپتا ہیں، جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 165 تک پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں تلاش اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور مزید جانی نقصان کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق پہاڑی دریا میں برف، چٹانوں اور مٹی کا بڑا تودہ گرنے کے بعد پانی اور ملبے کا انتہائی تیز ریلا نیپال کی جانب بڑھا۔ کئی علاقوں میں لوگوں کو سنبھلنے یا محفوظ مقام تک پہنچنے کا موقع نہیں ملا۔ سیلاب سے مکانات، سڑکیں، پل اور بجلی کے منصوبے شدید متاثر ہوئے ہیں۔
نیپال میں لاپتا افراد میں غیر ملکی سیاح بھی شامل ہیں۔ حکام کے مطابق متعدد بھارتی، امریکی، آسٹریلوی، برطانوی اور کینیڈین شہریوں کے بارے میں تاحال معلومات نہیں مل سکیں، جبکہ جنوبی کوریا کے بھی کئی شہری لاپتا ہیں۔
چین کے علاقے تبت کی گیریونگ کاؤنٹی میں بھی سیکڑوں افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاع ہے۔ چینی حکام کے مطابق وہاں تین افراد ہلاک ہوئے ہیں، تاہم نیپال اور چین کی جانب سے جاری کیے گئے لاپتا افراد کے اعداد و شمار میں ممکنہ طور پر ایک ہی افراد شامل ہو سکتے ہیں، اس لیے حتمی تعداد ابھی واضح نہیں۔
نیپالی فوج نے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کے لیے تقریباً 2 ہزار اہلکار تعینات کیے ہیں۔ فوج اور ریسکیو ٹیمیں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے لاپتا افراد کی تلاش کے ساتھ خوراک، خیمے اور دیگر ضروری سامان بھی متاثرہ آبادی تک پہنچا رہی ہیں۔ اب تک درجنوں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔
ابتدائی طور پر سیلاب کو زلزلے سے جوڑا گیا تھا، تاہم بعد کے جائزوں میں امکان ظاہر کیا گیا کہ برف اور چٹانوں کے اچانک ٹوٹنے سے پیدا ہونے والے ملبے نے دریا میں شدید طغیانی پیدا کی۔ سیٹلائٹ تصاویر سے بھی علاقے میں بڑے پیمانے پر مٹی اور چٹانوں کے تودے گرنے کے شواہد ملے ہیں۔
تباہی سے بجلی اور مواصلاتی نظام بھی متاثر ہوئے ہیں، جبکہ بعض سرحدی علاقوں تک زمینی راستوں سے رسائی مشکل ہو گئی ہے۔ کئی سڑکیں اور پل بہہ جانے کے باعث امدادی ٹیموں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
متاثرہ افراد میں وہ سیاح اور زائرین بھی شامل ہیں جو تبت میں واقع کیلاش مانسروور کی زیارت کے لیے سفر کر رہے تھے۔ یہ خطہ مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے لیے مذہبی اہمیت رکھتا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر بھی امدادی کوششیں شروع کر دی گئی ہیں۔ امریکا نے آفات سے نمٹنے کے ماہر کی تعیناتی اور مالی امداد کا اعلان کیا ہے، جبکہ اقوام متحدہ اور دیگر ادارے بھی متاثرہ علاقوں تک امدادی سامان پہنچانے میں تعاون کر رہے ہیں۔
ریسکیو ٹیموں کا کہنا ہے کہ ملبے اور تباہ شدہ راستوں کے باعث تلاش کا عمل مشکل ہے۔ حکام کے مطابق جیسے جیسے امدادی کارروائیاں آگے بڑھیں گی، ہلاکتوں اور لاپتا افراد کی تعداد میں مزید تبدیلی ممکن ہے۔پانی کے ریلے نے سب کچھ نگل لیا، 1500 افراد لاپتا

Leave a reply