21 سابق عالمی کپتانوں کا وزیراعظم کو خط، عمران خان کے طبی معائنے اور علاج کا مطالبہ

دنیا کے 21 سابق معروف بین الاقوامی کرکٹ کپتانوں نے وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھ کر سابق وزیراعظم اور پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عمران خان کے طبی معائنے، مناسب علاج اور اہل خانہ سے ملاقاتوں کی بحالی پر زور دیا ہے۔
خط میں سابق کپتانوں نے عمران خان کے طبی معائنے کے طریقہ کار پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کی ہدایت کے مطابق انہیں ایسے میڈیکل بورڈ سے معائنہ کرانے کی ضرورت ہے جس میں ان کے ذاتی معالجین اور بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان بھی شامل ہوں۔
سابق کپتانوں کے مطابق عمران خان کو اسپتال منتقل کیے جانے کے بعد وہاں ان کا قیام صرف چند گھنٹوں تک محدود رہا، جبکہ ان کے معائنے کے لیے عدالت کی ہدایت کردہ میڈیکل بورڈ کے بجائے سرکاری طور پر تشکیل دی گئی طبی ٹیم نے معائنہ کیا اور انہیں واپس اڈیالہ جیل منتقل کردیا۔
خط میں تین اہم مطالبات سامنے رکھے گئے ہیں۔ ان میں عمران خان کا مکمل اور آزادانہ طبی معائنہ، بالخصوص دائیں آنکھ کی مبینہ بینائی میں کمی کا جائزہ، ہفتہ وار خاندانی ملاقاتوں کا تسلسل اور طبی معائنے کی بنیاد پر تجویز کردہ علاج کی فوری فراہمی شامل ہے۔
خط پر مائیکل ایتھرٹن، ایلن بارڈر، گریگ چیپل، ایان چیپل، سنیل گواسکر، ایڈم گلکرسٹ، ڈیوڈ گاور، ناصر حسین، کلائیو لائیڈ، کپل دیو، ارجنا راناٹنگا، اینڈریو اسٹراس، اسٹیو وا اور دیگر سابق کپتانوں کے دستخط ہیں۔
سابق کرکٹرز نے واضح کیا کہ ان کی اپیل کسی سیاسی کردار کے طور پر نہیں بلکہ کرکٹ کے میدان میں عمران خان کے سابق ساتھیوں اور حریفوں کی حیثیت سے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کے داخلی قانونی معاملات میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے بلکہ عمران خان کی صحت سے متعلق خدشات کے پیش نظر یہ درخواست کر رہے ہیں۔
یہ تقریباً چھ ماہ کے دوران سابق عالمی کپتانوں کی جانب سے وزیراعظم کو بھیجا جانے والا دوسرا خط ہے۔ اس سے قبل رواں سال فروری میں 14 سابق کپتانوں نے بھی عمران خان کی صحت اور ان کی ایک آنکھ کی بینائی سے متعلق رپورٹس پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔
دوسری جانب پاکستانی حکومت عمران خان کی جیل میں مبینہ مشکلات سے متعلق متعدد دعوؤں کی تردید کرتی رہی ہے، جبکہ عمران خان کے اہل خانہ اور ان کے بیٹوں کی جانب سے جیل میں ان کے حالات پر تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔









