نئی امریکی پابندیوں پر ایران کا سخت ردِعمل، خطے میں سفارتی سرگرمیاں تیز

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا کی جانب سے مزید سخت پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی کو مایوسی کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نئی پابندیاں بھی ایران کو دباؤ میں لا کر شکست دینے میں کامیاب نہیں ہوں گی۔
ایک ویڈیو پیغام میں عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ امریکا کا فوجی اقدامات کے بعد دوبارہ پابندیوں کی طرف واپس آنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ واشنگٹن اپنی حکمت عملی میں مشکلات کا شکار ہے۔ ان کے مطابق امریکا کو ایران کے ساتھ دھمکیوں کے بجائے احترام اور سفارت کاری کے ذریعے بات چیت کرنی چاہیے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران ماضی میں بھی امریکی دباؤ اور پابندیوں کا سامنا کر چکا ہے اور مستقبل میں بھی ان کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایران کے خلاف مزید سخت اقتصادی پابندیوں کا عندیہ دیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ نئی پابندیوں کا مقصد ایران پر معاشی دباؤ بڑھانا ہے۔
ایران پہلے ہی طویل عرصے سے امریکی اور دیگر بین الاقوامی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے، جبکہ حالیہ کشیدگی کے باعث ملک کی معیشت اور بنیادی ڈھانچے پر بھی اضافی دباؤ پڑا ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع کے اثرات آبنائے ہرمز تک بھی پہنچے ہیں۔ خطے میں کشیدگی کے باعث سمندری تجارت اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی توانائی مارکیٹ میں بھی بے یقینی بڑھی ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز میں بعض جہازوں کی نقل و حرکت پر اعتراضات بھی اٹھائے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ ایران کی مدد کرنے والے ممالک کو اقتصادی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ واشنگٹن نے چین سے بھی ایران کے ساتھ تیل کی تجارت کے معاملے پر تعاون کا مطالبہ کیا ہے، کیونکہ چین ایرانی تیل کا ایک بڑا خریدار ہے۔
ادھر ایران نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پیر کو تہران کا دورہ کریں گے۔ ایرانی حکام کے مطابق دورے کا مقصد خطے میں امن و سلامتی کی بحالی کے لیے جاری کوششوں سے متعلق بات چیت ہے۔ ذرائع کے مطابق ملاقاتوں میں حالیہ علاقائی صورتحال اور امریکا کی جانب سے ایران پر مزید پابندیوں کی دھمکی بھی زیر بحث آ سکتی ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی کہا ہے کہ ایران کو بعض پڑوسی ممالک کی جانب سے علاقائی سکیورٹی اور اقتصادی تعاون سے متعلق پیغامات موصول ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق خطے میں مقامی سطح پر سکیورٹی کا ایسا نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے جو طویل مدتی امن کے لیے مؤثر ہو۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی جنگ کے سفارتی حل پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ تنازع کو مذاکرات کے ذریعے ختم کرنا بہتر ہوگا۔ ان کے مطابق ایران اپنی خودمختاری اور وقار کے تحفظ کے لیے اپنے مؤقف پر قائم ہے۔
موجودہ صورتحال میں ایران کو معاشی اور دفاعی دباؤ کا سامنا ہے، تاہم تہران اب بھی میزائل اور ڈرون صلاحیت برقرار رکھنے کا دعویٰ کرتا ہے۔ دوسری جانب ایران کی جوہری تنصیبات اور جوہری پروگرام کی موجودہ صورتحال کے بارے میں مکمل اور آزادانہ معلومات محدود ہیں، جس کے باعث خطے میں کشیدگی اور عالمی تشویش برقرار ہے۔









