امریکا کا دباؤ، ایران کی مزاحمت، اسرائیل کی ضد—اب آگ کہاں تک جائے گی؟

کبھی تاریخ توپوں کی گھن گرج میں نہیں، ایک بند دروازے کے سامنے لکھی جاتی ہے۔ آج مشرقِ وسطیٰ اسی دروازے کے سامنے کھڑا ہے۔ ایک طرف میزائل، دوسری طرف معاشی پابندیاں؛ ایک طرف غزہ کے ملبے تلے دبے خواب، دوسری طرف ایران کی مزاحمت؛ اور درمیان میں وہ سفارت کاری ہے جس کے ہاتھ میں شاید آخری چابی باقی ہے۔
امریکا دباؤ بڑھا رہا ہے، ایران پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں، اسرائیل اپنی سلامتی کو اولین ترجیح قرار دے رہا ہے اور عرب ممالک خوفزدہ ہیں کہ کہیں یہ آگ ان کی سرحدوں تک نہ پہنچ جائے۔ سب کے پاس اپنی اپنی دلیل ہے، مگر خطرہ ایک ہی ہے: اگر ہر فریق اپنی طاقت کو حل سمجھنے لگے تو جنگ خود ایک مسئلہ بن جاتی ہے۔
غزہ میں امن کا سوال اس لیے پیچیدہ ہے کہ ’’امن‘‘ کا مطلب ہر فریق کے لیے مختلف ہے۔ اسرائیل کے نزدیک حماس کا غیر مسلح ہونا بنیادی شرط ہے، فلسطینیوں کے لیے امن محض فائر بندی نہیں بلکہ قبضے، محاصرے، تباہی اور سیاسی بے یقینی سے نجات کا نام ہے، جبکہ عرب دنیا کے لیے یہ بحران پورے خطے کے عدم استحکام کا پیش خیمہ بن چکا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں امریکی کردار فیصلہ کن بن جاتا ہے۔
واشنگٹن ایک طرف ثالث بننے کی کوشش کرتا ہے اور دوسری طرف اسرائیل کا سب سے طاقتور اتحادی بھی ہے۔ اگر امریکی دباؤ صرف ایران پر ہو اور اسرائیل سے سیاسی سمجھوتے کے لیے وہی شدت دکھائی نہ دے تو سوال اٹھے گا کہ کیا امریکا واقعی ثالث ہے یا صرف طاقت کے ایک رخ کو استعمال کر رہا ہے؟
امن کسی ایک فریق کی فتح کا دوسرا نام نہیں۔
امن وہ بندوبست ہے جس میں فریقین کو جنگ دوبارہ شروع کرنے سے زیادہ معاہدے پر قائم رہنے میں فائدہ نظر آئے۔
اور پھر ایران کا محاذ ہے۔
آبنائے ہرمز محض پانی کی ایک گزرگاہ نہیں۔ یہ عالمی توانائی کی شہ رگ ہے۔ اگر یہ راستہ طویل عرصے کے لیے بند ہوتا ہے تو اثر صرف ایران، امریکا یا خلیج تک محدود نہیں رہے گا۔ تیل کی قیمتیں، عالمی تجارت، صنعتی پیداوار اور درآمدی ممالک کی معیشتیں ایک ہی جھٹکے میں متاثر ہو سکتی ہیں۔
یہاں ایک خطرناک کھیل شروع ہو سکتا ہے: ایران دباؤ بڑھائے، امریکا جواب دے، اتحادی مزید سخت اقدامات کریں، ایران مزید مزاحمت کرے—اور پھر ہر اگلا قدم پچھلے قدم سے زیادہ خطرناک ہو۔
یہ شطرنج نہیں ہے۔
شطرنج میں مہرہ قربان ہوتا ہے، انسان نہیں۔ جنگ میں ملبے کے نیچے صرف عمارتیں نہیں دبتیں؛ خاندان، معیشتیں اور نسلوں کے مستقبل بھی دفن ہوتے ہیں۔
واشنگٹن یہ سمجھ سکتا ہے کہ معاشی پابندیاں ایران کو مذاکرات کی میز پر جھکا دیں گی۔ یہ امکان موجود ہے کہ شدید اقتصادی دباؤ تہران کے لیے مشکلات بڑھا دے، لیکن تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ معاشی تکلیف ہمیشہ سیاسی پسپائی پیدا نہیں کرتی۔ کبھی کبھی دباؤ حکومتوں کو مزید سخت مؤقف اختیار کرنے پر بھی مجبور کر دیتا ہے۔
اس لیے پابندیاں مذاکرات کا ذریعہ ہو سکتی ہیں، مذاکرات کا متبادل نہیں۔
ایران کے لیے بھی یہ حقیقت نظرانداز کرنا خطرناک ہوگا کہ مزاحمت کی طاقت اور لامحدود کشیدگی ایک چیز نہیں۔ اگر آبنائے ہرمز طویل عرصے تک عالمی تجارت کے لیے خطرہ بن جاتی ہے تو وہ ممالک بھی تہران سے دور ہو سکتے ہیں جو واشنگٹن کی پالیسی سے اختلاف رکھتے ہیں۔
اور اگر یمن دوبارہ بڑے علاقائی تصادم کا مرکز بن گیا تو آگ صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہے گی۔
اصل خطرہ یہی ہے کہ کوئی بھی فریق جنگ شروع کرنے کا فیصلہ نہ کرے، مگر جنگ پھر بھی شروع ہو جائے۔
ایک حملہ دوسرے کا جواب بنے، جواب اگلے حملے کو جنم دے، پھر بدلہ، پھر جوابی کارروائی—اور دیکھتے ہی دیکھتے فیصلے حکومتوں کے ہاتھ سے نکل کر ردعمل کے ایک ایسے سلسلے کے ہاتھ میں چلے جائیں جس کا کوئی واضح اختتام نہ ہو۔
ایران کی عسکری تنصیبات کو نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔ جوہری پروگرام کو محدود کیا جا سکتا ہے۔ میزائلوں کو تباہ کیا جا سکتا ہے۔
لیکن سیاسی ارادے کو میزائل سے تباہ نہیں کیا جا سکتا۔
اسی طرح غزہ میں حماس کو کمزور کرنا فلسطینی مسئلے کا خاتمہ نہیں۔ اگر ریاست، خودمختاری، سلامتی، تعمیرِ نو، نقل و حرکت اور مستقبل کے سیاسی انتظام جیسے بنیادی سوالات باقی رہیں تو جنگ کے بعد بھی تنازع زندہ رہے گا۔
اور اسرائیل کے لیے بھی ایک تلخ حقیقت موجود ہے: مستقل سلامتی صرف فوجی برتری سے حاصل نہیں ہوتی۔
ایک نسل کو مسلسل خوف، محرومی اور بے یقینی میں رکھ کر اگلی نسل سے امن کی توقع کرنا مشکل ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کا بحران شاید کسی ایک میز پر حل نہ ہو، مگر ایک حقیقت اب واضح ہے: صرف طاقت سے جیتی گئی جنگ امن پیدا نہیں کرتی۔
امریکا کو اگر واقعی کوئی نیا علاقائی بندوبست قائم کرنا ہے تو اسے صرف ایران کو کمزور کرنے سے آگے دیکھنا ہوگا۔ ایران کو بھی سمجھنا ہوگا کہ مزاحمت کا مطلب عالمی تجارت کو مستقل خطرے میں ڈالنا نہیں۔ اسرائیل کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ سلامتی کے ساتھ سیاسی حل بھی ضروری ہے، جبکہ فلسطینی قیادت کو بھی ایسی سیاسی حکمت عملی تلاش کرنا ہوگی جو عوامی حقوق، ریاستی مطالبے اور بدلتی ہوئی علاقائی حقیقتوں کے درمیان قابلِ عمل راستہ نکال سکے۔
ورنہ آج کے طاقتور دعوے کل کی تاریخ میں صرف ایک اور باب بن جائیں گے۔
بڑے حملے۔
سخت پابندیاں۔
بند راستے۔
تباہ شدہ شہر۔
مہنگی جنگیں۔
اور آخر میں وہی مذاکرات، جو شاید بہت پہلے شروع کیے جا سکتے تھے۔
سوال صرف یہ نہیں کہ کون جیتے گا؟
اصل سوال یہ ہے کہ جب یہ کھیل ختم ہوگا تو کیا کچھ باقی بچے گا؟
کیونکہ اگر ہر فریق اپنی فتح کو دوسرے کی شکست سے وابستہ رکھے گا تو جنگ ختم ہونے کے بعد بھی جنگ باقی رہے گی۔
اور شاید تاریخ کا سب سے خوفناک جملہ یہی ہوگا:
امن کا دروازہ کھلا تھا، مگر طاقت کے نشے میں سب نے دستک دینے میں بہت دیر کر دی۔









