یونیورسل گردہ” – گردے کی پیوندکاری میں انقلابی پیش رفت

0
48
یونیورسل گردہ" – گردے کی پیوندکاری میں انقلابی پیش رفت

گردے کی پیوندکاری کے شعبے میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے جس نے ہزاروں مریضوں کے لیے نئی امید پیدا کر دی ہے۔ سائنس دانوں نے ایسا گردہ تیار کیا ہے جسے کسی بھی مریض کو لگایا جا سکتا ہے، چاہے اس کا خون کسی بھی گروپ سے تعلق رکھتا ہو۔

یہ تحقیق چین اور کینیڈا کے ماہرین نے مشترکہ طور پر انجام دی، جس میں انہوں نے خون کے گروپ A سے تعلق رکھنے والے ایک عطیہ کردہ گردے کو مخصوص انزائمز کی مدد سے گروپ O میں تبدیل کیا۔ چونکہ گروپ O کو ’یونیورسل ڈونر‘ سمجھا جاتا ہے، اس لیے اس گردے کو کسی بھی مریض کے جسم میں پیوند کیا جا سکتا ہے۔

یہ تجربہ ایک ایسے مریض پر کیا گیا جو دماغی طور پر غیر فعال تھا، اور اس کے خاندان کی اجازت سے گردہ منتقل کیا گیا۔ حیرت انگیز طور پر گردے نے کئی دن تک بغیر کسی منفی ردِعمل کے کام کیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مستقبل میں خون کے گروپ سے قطع نظر گردے کی پیوندکاری ممکن ہو سکتی ہے۔

اس کامیابی کے پیچھے برسوں کی تحقیق کارفرما ہے۔ ماہرین نے وہ شوگر مالیکیولز ہٹانے کا طریقہ ڈھونڈا ہے جو خون کے گروپس کو متعین کرتے ہیں، اور اسی اصول کو گردے پر لاگو کر کے کامیابی حاصل کی گئی۔

یہ نئی تکنیک خاص طور پر ان مریضوں کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے جن کا خون گروپ O ہوتا ہے، کیونکہ انہیں عطیے کے لیے سب سے زیادہ انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اب اس طریقے سے نہ صرف انتظار کا وقت کم ہوگا بلکہ مدافعتی ردِعمل بھی کم متوقع ہے۔

اگلا مرحلہ انسانی آزمائشوں اور حکومتی منظوریوں کا ہے، جو کہ یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا سے منسلک ایک بایومیڈیکل کمپنی کی نگرانی میں کیے جائیں گے۔ اگر یہ مرحلہ بھی کامیاب رہا، تو گردے کے منتظر مریضوں کے لیے یہ طریقہ علاج ایک نئی زندگی کا دروازہ کھول سکتا ہے۔

Leave a reply