
گزشتہ کچھ عرصے میں ’گھی والی کافی‘ کافی شوقین افراد کے درمیان تیزی سے مقبول ہو رہی ہے۔ یہ نہ صرف ذائقے میں منفرد ہے بلکہ صحت کے لیے بھی کئی فوائد فراہم کرتی ہے، جن میں توانائی میں اضافہ، بہتر ہاضمہ اور دماغی کارکردگی شامل ہیں۔
روایتی گھی، جسے کئی صدیوں سے خوراک کا حصہ بنایا جاتا رہا ہے، اب کافی میں شامل ہو کر ایک نرم اور ملائم مشروب تخلیق کرتا ہے۔ گھی میں موجود خاص چکنائیاں، جیسے بیوٹیریٹ، جسم کو توانائی فراہم کرتی ہیں اور یہ توانائی عام کافی کے فوری ’اسپائیک‘ اور ’ڈراپ‘ سے مختلف، مستحکم رہتی ہے۔
تحقیقات کے مطابق، گھی میں موجود بیوٹیریٹ دماغ کے لیے توانائی کے متبادل ذرائع فراہم کرتا ہے، جس سے ذہنی سکون، توجہ میں اضافہ اور ممکنہ طور پر نیوروجینریٹیو بیماریوں کے مریضوں کے دماغی افعال میں بہتری آ سکتی ہے۔
ہاضمہ کے لیے بھی گھی فائدہ مند ہے، کیونکہ یہ آنتوں کی صحت کو بہتر بناتا ہے اور فائدہ مند بیکٹیریا کی پیداوار کو بڑھاتا ہے۔ وزن کم کرنے یا اسے برقرار رکھنے والے افراد کے لیے بھی یہ مشروب مفید ہے، کیونکہ یہ بھوک کم کرنے میں مددگار ہے اور جسم کی توانائی کے لیے چربی کو استعمال کرتا ہے۔
اس کے علاوہ، گھی وٹامن اے، ڈی، ای، کے اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتا ہے، جو مجموعی صحت کے لیے اہم ہیں اور جسم میں بہتر طریقے سے جذب ہوتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ابتدا میں ایک چمچ گھی کافی میں شامل کرنا مناسب ہے، اور اسے ذائقے اور غذائی ضروریات کے مطابق بڑھایا جا سکتا ہے۔ تاہم، یہ متوازن غذا کی جگہ نہیں لے سکتا، اور اگر کسی کو دودھ سے الرجی یا کوئی دیگر صحت کا مسئلہ ہو تو اسے شامل کرنے سے قبل ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔
’گھی والی کافی‘ صرف ایک فیشن نہیں، بلکہ ایک آسان طریقہ ہے اپنی صبح کی کافی کو مزیدار اور صحت مند بنانے کا۔








