گل پلازہ سانحہ: کمشنر کراچی کی رپورٹ رد، افسران پر گھیرا تنگ

0
98
گل پلازہ سانحہ: کمشنر کراچی کی رپورٹ رد، افسران پر گھیرا تنگ

سانحہ گل پلازہ کے حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں تقریباً چھ گھنٹے تک جاری رہنے والا اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں کمشنر کراچی کی جانب سے پیش کی گئی تحقیقاتی رپورٹ کو ناقابلِ قبول قرار دے دیا گیا۔ اجلاس میں کراچی سمیت صوبے کے مختلف اہم عہدوں پر فائز افسران کو ہٹانے کے فیصلے بھی کیے گئے۔
اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ سندھ نے تحقیقاتی رپورٹ پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ رپورٹ میں زمینی حقائق کو نظرانداز کیا گیا ہے اور اس کی بنیاد پر سنجیدہ اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ آتشزدگی کے واقعے کو بروقت اور سنجیدگی سے نہیں لیا گیا، جبکہ انتظامی ردعمل غیر معمولی طور پر سست رہا۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ واقعے کے بعد مختلف محکموں کے افسران نے ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے ایک دوسرے پر الزام تراشی کی، جس کے باعث ریسکیو اور ریلیف سرگرمیوں میں تاخیر ہوئی۔ ان کے مطابق کمشنر، ڈپٹی کمشنر، فائر بریگیڈ اور ریسکیو 1122 سمیت تمام متعلقہ اداروں کی کارکردگی غیر تسلی بخش رہی۔
وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ تحقیقاتی رپورٹ میں اصل ذمہ داروں کی نشاندہی کے بجائے ذمہ داری دوسروں پر منتقل کرنے کی کوشش کی گئی، جس پر اجلاس کے شرکاء نے بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ عوام کی جان و مال کے تحفظ میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
انہوں نے ہدایت دی کہ سانحے کے محرکات، انتظامی خامیوں اور ذمہ داریوں کا دوبارہ، شفاف اور غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔
اجلاس میں صوبائی وزراء شرجیل انعام میمن، ضیاء لنجار، ناصر حسین شاہ اور مرتضیٰ وہاب کے علاوہ آئی جی سندھ اور ایڈیشنل آئی جی نے بھی شرکت کی۔ شرکاء کو سانحہ گل پلازہ کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی اور آئندہ کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات پر غور کیا گیا۔

Leave a reply