“کیا آپ کا بیٹھنے کا انداز آپ کی ذہنی صحت متاثر کر رہا ہے؟”

0
129
"کیا آپ کا بیٹھنے کا انداز آپ کی ذہنی صحت متاثر کر رہا ہے؟"

ٹیکنالوجی کے اس دور میں جہاں موبائل فون، لیپ ٹاپ اور دیگر اسکرینز ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں، وہیں ان کے مسلسل استعمال کا ہماری جسمانی اور ذہنی صحت پر گہرا اثر پڑ رہا ہے۔

ماہرین صحت کے مطابق جب ہم جھک کر موبائل یا کتاب کا استعمال کرتے ہیں، تو یہ نہ صرف گردن، کندھوں اور کمر میں درد کا سبب بنتا ہے بلکہ دماغی تناؤ، اضطراب اور افسردگی جیسے مسائل کو بھی جنم دیتا ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ہمارا جسمانی پوسچر (بیٹھنے یا کھڑے ہونے کا انداز) ہماری ذہنی کیفیت کو متاثر کرتا ہے۔ جب ہم مسلسل جھک کر بیٹھتے ہیں، تو دماغ اسے ایک منفی اشارہ سمجھتا ہے، جس سے موڈ پر برا اثر پڑتا ہے۔

فزیکل میڈیسن اور ذہنی صحت کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ خراب پوسچر ذہنی تناؤ کو بڑھا سکتا ہے۔ فون پکڑنے کا انداز بھی اس میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بار بار بےچینی سے فون چیک کرنا یا سختی سے پکڑ کر رکھنا اضطراب کی علامت ہو سکتی ہے۔

مزید یہ کہ جھک کر بیٹھنے سے سانس لینے کا عمل متاثر ہوتا ہے، کیونکہ سینہ دبنے سے گہری سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس، سیدھا بیٹھنے یا کھڑے ہونے سے نہ صرف سانس بہتر آتا ہے بلکہ دماغ کو “آرام” کا سگنل بھی جاتا ہے، جو ذہنی سکون میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

ماہرین کی جانب سے کچھ مفید تجاویز:

اسکرین کو ہمیشہ آنکھوں کی سطح پر رکھیں۔

20-20-20 کا اصول اپنائیں: ہر 20 منٹ بعد 20 سیکنڈ کے لیے 20 فٹ دور دیکھیں۔

کتاب یا لیپ ٹاپ استعمال کرتے وقت نیچے جھکنے کے بجائے اسٹینڈ یا تکیہ کا سہارا لیں۔

بیٹھنے کی کرسی ایسی ہو جو کمر کو مکمل سہارا دے اور پاؤں فرش پر سیدھے رکھے جائیں۔

روزانہ کچھ سادہ مشقیں جیسے گردن اور کندھوں کی ہلکی ورزشیں پوسچر بہتر کرنے میں مددگار ہیں۔

چھوٹے چھوٹے قدم جیسے سیدھا بیٹھنا، وقفے لینا اور اپنی جسمانی حالت پر توجہ دینا، نہ صرف جسمانی تکلیف کو کم کرتے ہیں بلکہ ذہنی طور پر بھی سکون فراہم کر سکتے ہیں۔

یاد رکھیں: بہتر پوسچر، بہتر ذہنی اور جسمانی صحت کی طرف پہلا قدم ہے۔

Leave a reply