ڈکی بھائی کےرہائی کے بعد سنگین الزامات؛ مبینہ تشدد اور بھاری رقوم کے تقاضوں پر تحقیقاتی مطالبات

0
89
ڈکی بھائی کےرہائی کے بعد سنگین الزامات؛ مبینہ تشدد اور بھاری رقوم کے تقاضوں پر تحقیقاتی مطالبات

معروف یوٹیوبر سعد الرحمن المعروف ڈکی بھائی، جو مبینہ غیرقانونی جوا ایپس کے فروغ اور منی لانڈرنگ کے کیس میں گرفتار تھے، ضمانت پر رہائی کے بعد سامنے آنے والی اپنی تازہ ویڈیو میں قومی سائبر کرائم ادارے کے بعض اہلکاروں پر تشدد، بلیک میلنگ اور غیرقانونی رقوم کے مطالبات کے سنگین الزامات لگا رہے ہیں۔

ڈکی بھائی نے الزام عائد کیا کہ انہیں حراست کے دوران شدید جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، ان کے اہل خانہ کو دھمکیاں دی گئیں اور ان کے کرپٹو اکاؤنٹس سے مبینہ طور پر تقریباً 9 کروڑ روپے ایک اہلکار کے ذاتی والٹ میں منتقل کروائے گئے۔
ان کے مطابق تفتیش کے دوران ایک بچے سے ویڈیو کال کروا کر اسے گالیاں دلوانے تک کے واقعات پیش آئے۔

یوٹیوبر نے اپنے تفتیشی افسر ایڈیشنل ڈائریکٹر سرفراز چوہدری—جو ان کے مطابق اس کیس میں پہلے ہی زیرِ حراست ہیں—پر بھی سنگین بدعنوانی کے الزامات لگائے۔
ڈکی بھائی کا کہنا ہے کہ افسر نے ان کی اہلیہ پر مقدمہ درج کرنے کی دھمکی دے کر 60 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا، جو ان کے اہل خانہ نے ادھار لے کر ادا کیے۔ بعد ازاں مزید ڈیڑھ کروڑ روپے کا تقاضا کیا گیا اور عدم ادائیگی کی صورت میں مزید مقدمات بنانے کی دھمکیاں دی گئیں۔

ڈکی بھائی کی جانب سے الزامات سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل دیکھنے میں آرہا ہے۔

صارفین اور صحافیوں نے مبینہ تشدد اور کرپشن میں ملوث اہلکاروں کے خلاف شفاف تحقیقات اور کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

کچھ صارفین نے سوال اٹھایا کہ اگر ایک معروف اور بااثر شخصیت کے ساتھ ایسا سلوک ہو سکتا ہے تو عام شہریوں کی صورتحال کیا ہوگی۔

مختلف ٹویٹس میں سرفراز چوہدری کے مبینہ کردار پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور ان کے خلاف سخت قانونی اقدامات کا مطالبہ کیا گیا۔

ڈکی بھائی کو 17 اگست 2025 کو لاہور ایئرپورٹ سے جوا ایپس کے ذریعے مبینہ منی لانڈرنگ کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔
بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ نے 10 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ان کی ضمانت منظور کی جس کے بعد وہ 26 نومبر کو رہا ہوئے۔

Leave a reply