
عام طور پر گھروں میں بچوں کو چیونگم چبانے سے منع کیا جاتا ہے اور بڑوں میں بھی اسے ایک غیر سنجیدہ عادت سمجھا جاتا ہے، تاہم طبی ماہرین کے مطابق یہ تصور مکمل طور پر درست نہیں۔
کان، ناک اور گلے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر چیونگم مناسب طریقے اور محدود مقدار میں استعمال کی جائے تو یہ صحت کے لیے کئی پہلوؤں سے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے، خاص طور پر کانوں، منہ اور دماغی کارکردگی کے لیے۔
ایک ای این ٹی اسپیشلسٹ کے مطابق چیونگم چبانا دراصل چہرے، زبان اور جبڑوں کے عضلات کے لیے ہلکی پھلکی ورزش کی مانند ہے۔ اس عمل سے کانوں کے اندر موجود چھوٹے عضلات متحرک اور مضبوط ہوتے ہیں جبکہ منہ کے مسلز بھی بہتر انداز میں کام کرنے لگتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلسل چیونگم چبانے سے گلے کے مسلز فعال رہتے ہیں، جس کے باعث خراٹوں کے مسئلے میں کسی حد تک کمی آ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ لعاب دہن کی مقدار بڑھاتی ہے، جس سے منہ اور حلق خشک ہونے سے محفوظ رہتے ہیں۔
ناک بند ہونے، خشک کھانسی یا منہ خشک رہنے کی شکایت رکھنے والے افراد کے لیے بھی چیونگم مفید ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر آلودہ ماحول یا ایسے دنوں میں جب ہوا کا معیار خراب ہو اور ناک سے سانس لینا دشوار ہو جائے، چیونگم چبانے سے منہ کے ذریعے سانس لینے میں کچھ آسانی محسوس کی جا سکتی ہے۔
طبی تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ چیونگم دماغی توجہ میں اضافہ کرتی ہے۔ دورانِ کام گم چبانے سے ذہنی دباؤ میں کمی، توجہ میں بہتری اور مجموعی کارکردگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ چیونگم کے فوائد کے باوجود اس کا حد سے زیادہ استعمال نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ بہتر ہے کہ شوگر فری چیونگم کا انتخاب کیا جائے اور اعتدال کے ساتھ اسے معمول کا حصہ بنایا جائے۔
درست مقدار میں چیونگم نہ صرف منہ کی ورزش بن سکتی ہے بلکہ دماغی صلاحیت اور کانوں کی صحت کے لیے بھی معاون ثابت ہو سکتی ہے۔









