چین کے لیے جدید اے آئی چپس کی رسائی بند، ٹرمپ کی سخت پالیسی

0
108
چین کے لیے جدید اے آئی چپس کی رسائی بند، ٹرمپ کی سخت پالیسی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی جدید ترین چپس، جو کمپنی اینویڈیا تیار کرتی ہے، صرف امریکی کمپنیوں کو دستیاب ہوں گی اور دیگر ممالک، بشمول چین، کو ان تک رسائی نہیں ہوگی۔

ٹرمپ نے یہ بیان سی بی ایس کے پروگرام “60 منٹس” میں ریکارڈ شدہ انٹرویو اور ایئر فورس ون پر صحافیوں سے گفتگو کے دوران دیا۔ انہوں نے کہا، “ہم کسی اور کو یہ جدید ترین چپس نہیں دیںنگے، صرف امریکاکے پاس رہیں گی۔”

اس بیان سے عندیہ ملتا ہے کہ امریکی حکومت مستقبل میں سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی کی برآمد پر مزید سخت پابندیاں لگا سکتی ہے تاکہ چین جدید اے آئی ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل نہ کر سکے۔

جولائی میں امریکی حکومت نے ایک نیا منصوبہ بھی شروع کیا تھا جس کا مقصد اتحادی ممالک کو اے آئی ٹیکنالوجی کی برآمد بڑھا کر چین پر تکنیکی برتری برقرار رکھنا تھا۔

اینویڈیا نے حال ہی میں اعلان کیا تھا کہ وہ 260,000 سے زائد بلیک ویل چپس جنوبی کوریا کو فراہم کرے گی۔ تاہم واشنگٹن میں کچھ حلقوں نے سوال اٹھایا کہ آیا کمپنی چین کو کم طاقتور چپس فروخت کرنے کی اجازت حاصل کرے گی یا نہیں۔

ٹرمپ نے وضاحت کی کہ چین کو سب سے جدید چپس نہیں دی جائیں گی، تاہم کم طاقتور ورژن پر ممکنہ بات چیت کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا، “ہم انہیں اینویڈیا کے ساتھ معاملہ کرنے دیں گے، مگر سب سے جدید چپس نہیں دیں گے۔”

ریپبلکن قانون سازوں نے بھی اس اقدام کو قومی سلامتی کے تناظر میں اہم قرار دیا ہے اور بعض نے اسے ایران کو ہتھیاروں کے معیار کا یورینیم دینے کے مترادف قرار دیا۔

اینویڈیا کے سی ای او جینسن ہوانگ نے کہا کہ کمپنی فی الحال چینی مارکیٹ کے لیے برآمدی اجازت نامہ حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہی، کیونکہ بیجنگ کی پالیسی اس کی موجودگی کی مخالفت کرتی ہے۔

Leave a reply