چین میں تاریخ کے سب سے بڑے سونے کے ذخائر کی دریافت

0
81
چین میں تاریخ کے سب سے بڑے سونے کے ذخائر کی دریافت

چین نے حال ہی میں ملک کی تاریخ کے سب سے بڑے سونے کے ذخائر دریافت کرنے کا اعلان کیا ہے، جسے 1949 میں عوامی جمہوریہ چین کے قیام کے بعد ہونے والی سب سے بڑی کان کنی دریافت قرار دیا جا رہا ہے۔

چینی وزارتِ قدرتی وسائل کے مطابق ملکی سطح پر معدنیات کی تلاش کے دوران یہ ایک غیر معمولی پیش رفت ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پہلی مرتبہ چین میں ہزار ٹن سے زائد سونے کے ذخائر کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔ یہ وسیع ذخیرہ شمال مشرقی صوبے لیاؤننگ کے علاقے لیاؤ ڈونگ میں دریافت ہوا ہے۔

سرکاری میڈیا رپورٹس کے مطابق اس کان میں تقریباً 1,444 ٹن سونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جب کہ جدید جائزہ رپورٹ کی منظوری کے بعد اب یہاں کان کنی کے عمل کی تیاری شروع ہو گئی ہے۔ ماہرین کے اندازے کے مطابق اس مقام پر 2.586 ملین ٹن خام دھات موجود ہے، جس میں فی ٹن اوسطاً 0.56 گرام سونا پایا جاتا ہے۔

عالمی منڈی میں موجودہ قیمتوں کے لحاظ سے اس ذخیرے کی مجموعی مالیت 166 ارب یورو سے بھی زیادہ بنتی ہے۔ صرف رواں سال کے دوران عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں میں 50 فیصد سے زائد اضافہ دیکھا گیا ہے اور فی کلوگرام قیمت 115 ہزار یورو سے اوپر ریکارڈ کی گئی ہے، جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 54.78 ٹریلین روپے کے برابر ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ دریافت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی منڈی میں سونے کی طلب تیزی سے بڑھ رہی ہے، جب کہ کئی ابھرتی ہوئی معیشتیں اپنے ذخائر کو مستحکم کرنے کے لیے سونا بڑے پیمانے پر خرید رہی ہیں۔ اس منصوبے پر ریاستی ملکیتی لیاؤننگ جیولوجیکل اینڈ مائننگ گروپ نے کام کیا، جہاں تقریباً ایک ہزار ماہرین اور مزدوروں نے محض 15 ماہ میں تلاش کا عمل مکمل کیا—جو اپنی نوعیت کا تیز ترین منصوبہ سمجھا جا رہا ہے۔

Leave a reply