چاند پر دوبارہ انسانی قدم: اسپیس ایکس اور بلیو اوریجن کے درمیان مقابلہ بڑھ گیا

0
26
چاند پر دوبارہ انسانی قدم: اسپیس ایکس اور بلیو اوریجن کے درمیان مقابلہ بڑھ گیا

خلائی تحقیق کے میدان میں نجی کمپنیوں کی دوڑ تیز ہو گئی ہے، جہاں اسپیس ایکس اور بلیو اوریجن انسانوں کو دوبارہ چاند پر اتارنے اور وہاں مستقل قیام قائم کرنے کے لیے ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس عالمی مقابلے میں چین بھی شامل ہے، جس نے 2030 تک چاند پر اپنا انسان بردار مشن مکمل کرنے کا ہدف رکھا ہے، جس سے خلائی میدان میں مقابلہ مزید سخت ہو گیا ہے۔
اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک نے حالیہ انٹرویوز میں کہا کہ وہ چاند پر “مون بیس الفا” قائم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس منصوبے کے تحت چاند کی سطح پر ایک جدید لانچ سسٹم تیار کیا جائے گا، جو مصنوعی ذہانت پر مبنی سیٹلائٹ نیٹ ورک کے قیام میں مدد دے گا۔ مسک کا ہدف ہے کہ مستقبل میں ایک ملین سیٹلائٹس پر مشتمل اے آئی نیٹ ورک خلا میں کام کرے۔
ماضی میں مسک زیادہ تر توجہ مریخ پر انسانی آبادی قائم کرنے پر دیتے رہے، لیکن اب ان کی حکمت عملی میں واضح تبدیلی دیکھی جا رہی ہے، اور چاند کو بھی اہم ترجیح دی جا رہی ہے۔
دوسری جانب بلیو اوریجن کے بانی جیف بیزوس نے بھی چاند کے مشن پر توجہ بڑھا دی ہے۔ کمپنی نے اپنی سب آربیٹل سیاحت کی سرگرمیوں کو محدود کر کے وسائل “بلو مون” لینڈر پروگرام میں منتقل کر دیے ہیں۔ اس سال ایک غیر انسانی مشن کے ذریعے چاند کی سطح پر لینڈنگ کی تیاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد مستقبل میں خلا بازوں کی محفوظ آمد کو ممکن بنانا ہے۔
یہ تمام سرگرمیاں ناسا کے آرٹیمس پروگرام کا حصہ ہیں، جس کا مقصد چاند پر دوبارہ انسان بھیجنا اور طویل مدتی قیام کے لیے بنیاد تیار کرنا ہے۔ ناسا دونوں کمپنیوں کو مالی معاونت فراہم کر رہا ہے تاکہ وہ اپنے لینڈرز تیار کر سکیں۔ موجودہ منصوبے کے تحت اسپیس ایکس کا اسٹارشپ راکٹ پہلے مرحلے میں خلا بازوں کو چاند تک لے جائے گا۔
امریکہ اس دوڑ کو چین کے مقابلے کے تناظر میں بھی دیکھ رہا ہے، کیونکہ چین نے 2030 تک چاند پر اپنا انسانی مشن مکمل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق جو کمپنی پہلے چاند پر بنیادی ڈھانچہ قائم کرے گی، اسے مستقبل میں وہاں سرگرمیوں کی سمت اور استعمال پر سبقت حاصل ہو سکتی ہے۔
اگرچہ اسپیس ایکس کے اسٹارشپ راکٹ ابھی مکمل طور پر مدار میں کامیاب تعیناتی حاصل نہیں کر سکا، تاہم اس کے کئی تجرباتی لانچ ہو چکے ہیں۔ آئندہ چند برسوں میں چاند پر انسان بردار لینڈنگ کا ہدف رکھا گیا ہے، لیکن ماہرین اسے تکنیکی طور پر مشکل قرار دیتے ہیں۔
بلیو اوریجن کی حکمت عملی بھی “قدم بہ قدم، مضبوطی سے” کے اصول پر مبنی ہے، جو طویل مدتی اور بتدریج پیش رفت کو ترجیح دیتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مقابلہ صرف دو کمپنیوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کے اثرات پورے امریکی خلائی شعبے پر مرتب ہوں گے، جس سے سرمایہ کاری اور نئی کمپنیوں کی دلچسپی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
یوں چاند دوبارہ عالمی طاقتوں اور نجی کمپنیوں کے درمیان سائنسی تحقیق، تجارتی مفادات اور جغرافیائی حکمت عملی کا مرکزی نقطہ بن گیا ہے۔

Leave a reply