
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کے سات گھنٹے طویل اجلاس میں اہم سیاسی معاملات پر غور کیا گیا، تاہم اجلاس کے دوران بعض ارکان کے درمیان تلخی بھی دیکھنے میں آئی۔ اجلاس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی سمیت دیگر سیاسی قیدیوں کی رہائی، خیبرپختونخوا کی صورت حال اور آئینی معاملات سے متعلق قرارداد منظور کرلی گئی۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے 70 سے زائد ارکان نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران پارٹی کے مستقبل کے لائحہ عمل، پارلیمنٹ میں کردار اور اپوزیشن کی سیاسی حکمت عملی پر مشاورت کی گئی۔
اجلاس کے دوران بعض ارکان کی ناراضی بھی سامنے آئی۔ اطلاعات کے مطابق فیصل امین خان اجلاس سے غصے میں باہر چلے گئے، جبکہ رکن قومی اسمبلی خواجہ شیراز بھی واپس نہیں آئے۔ تاہم اختلافات کی وجوہات کے بارے میں تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
منظور کی گئی قرارداد میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی رہائی، اہل خانہ اور وکلا سے ملاقاتوں کی بحالی اور بانی پی ٹی آئی کے طبی معائنے کا مطالبہ کیا گیا۔ پارٹی نے عمران خان کے ذاتی معالج کو علاج کے عمل میں شامل کرنے اور دیگر سیاسی قیدیوں کی رہائی پر بھی زور دیا۔
قرارداد میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی مخالفت کرتے ہوئے منتخب صوبائی حکومت کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا۔ پی ٹی آئی نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور دیگر گرفتار رہنماؤں کی رہائی کے ساتھ لاپتہ افراد کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر بھی زور دیا۔
پارٹی نے 8 فروری 2024 کے انتخابی مینڈیٹ کی بحالی یا نئے شفاف انتخابات، 9 مئی 2023 اور 26 نومبر 2024 کے واقعات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات اور آئینی ترامیم واپس لینے کا مطالبہ بھی دہرایا۔
اجلاس کے بعد بیرسٹر علی ظفر نے بتایا کہ پارلیمانی پارٹی آئندہ سیاسی حکمت عملی میں فعال کردار ادا کرے گی۔ ان کے مطابق مستقبل کے لائحہ عمل پر مزید مشاورت کے لیے کمیٹی تشکیل دی جائے گی اور تجاویز اپوزیشن قیادت کے سامنے رکھی جائیں گی۔
اجلاس میں پارٹی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اندرونی اختلافات متعلقہ فورمز پر حل کرنے اور سیاسی، آئینی و قانونی جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔









