پنشن اسکیم 2023 میں اہم ترامیم
ہاٹ لائن نیوز: وفاقی حکومت نے ریٹائرڈ ملازمین پر پنشن کی ادائیگی کے بل کے بڑھتے ہوئے بوجھ کو کم کرنے کے لیے پنشن اسکیم 2023 میں بڑی ترامیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ریٹائرڈ ملازمین کی وفات کے بعد فیملی پنشن کی مدت دس سال تک مقرر کرنے کی تجویز ہے تاہم ریٹائرڈ ملازم کا کوئی بچہ معذور ہونے کی صورت میں اسے غیر معینہ مدت کے لیے فیملی پنشن ملے گی۔ وزارت خزانہ نے سمری منظوری کے لیے وزیراعظم کو بھجوا دی۔
ذرائع کے مطابق سمری میں کہا گیا ہے کہ پنشن بل ناقابل برداشت ہو گیا ہے۔ پے اینڈ پنشن کمیشن نے 2020 میں اپنی سفارشات دی تھیں، جن کی روشنی میں حکومت نے پنشن اصلاحات کا اعلان کیا تھا، جس کے مطابق پنشن سکیم میں ترامیم تجویز کی جا رہی ہیں۔
ترامیم کے مطابق شہداء کی فیملی پنشن کی مدت بیس سال تجویز کی گئی ہے، ریٹائرمنٹ پر ملازمین کی پنشن کا حساب خدمت کے آخری چھتیس ماہ کی پنشن کی رقم کے ستر فیصد اور سالانہ اضافے پر ہو گا۔
ریٹائرمنٹ کیبعد پنشنرزکی پنشن میں سالانہ اضافہ کی رقوم علیحدہ رکھی جائےگی اوریہ رقم اس وقت تک الگ رکھی جائے گی جبتک کہ حکومت مجازپنشنری بینیفٹس پرنظرثانی سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کرلیتی۔
پنشن میں اضافہ مہنگائی کی شرح کے مطابق ہوگا لیکن یہ اضافہ دس فیصد تک ہوگا اور حکومت اسے مہنگائی کی شرح میں کمی کے مطابق ایڈجسٹ بھی کرے گی۔
سرکاری ملازمین 25 سال کی سروس کے بعد قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے سکیں گے، لیکن یہ 25 سال کی سروس سے لے کر ریٹائرمنٹ کی عمر تک کی مدت کے دوران سالانہ تین فیصد جرمانہ کی کٹوتی سے مشروط ہوگا۔
ریٹائرمنٹ کیبعد کنٹریکٹ پرریگولر بنیادپردوبارہ ملازمت کی صورت میں ملازم کو آپشن دیاجائے گا کہ وہ پنشن کوبرقرار رکھے یا پھراس ملازمت کی تنخواہ حاصل کرے۔









