
لاہور: پنجاب میں کینسر کے مریضوں کے لیے ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں جدید ترین “کوآبلیشن” ٹیکنالوجی کے ذریعے علاج کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلا موقع ہے جب کینسر کے علاج کے لیے اس جدید طریقہ کار کو استعمال میں لایا جا رہا ہے۔
“کوآبلیشن” ٹریٹمنٹ کے تحت بجلی سے پیدا ہونے والی حرارت کے ذریعے متاثرہ ٹشوز کو ختم کیا جاتا ہے، جو روایتی سرجری کے مقابلے میں کم تکلیف دہ اور زیادہ مؤثر طریقہ ہے۔ مریض جلد صحتیاب ہو جاتے ہیں اور اسپتال میں قیام کا دورانیہ بھی کم ہوتا ہے۔
یہ جدید مشینری چین سے منگوائی گئی ہے اور لاہور کے میو ہسپتال میں اس ٹیکنالوجی پر مبنی پہلا مرکز قائم کر دیا گیا ہے۔ ہسپتال کی ماہر ٹیم نے اس طریقہ علاج سے پھیپھڑوں اور چھاتی کے کینسر میں مبتلا مریضوں کے کامیاب آپریشنز بھی مکمل کر لیے ہیں۔
میو ہسپتال کے مطابق جگر کی شریانوں میں رکاوٹ اور چھاتی کے ٹیومرز کو کوآبلیشن طریقے سے مؤثر طور پر ختم کیا گیا، جس سے مریضوں کو تیزی سے افاقہ ہوا۔
پنجاب کے طبی شعبے میں اس نئی ٹیکنالوجی کا آغاز ایک اہم سنگ میل سمجھا جا رہا ہے، جو مستقبل میں دیگر سرکاری ہسپتالوں میں بھی متعارف کرانے کا ارادہ ہے۔









