پاکستان پر الزام، شواہد بھارت کے خلاف نکل آئے

0
117
پاکستان پر الزام، شواہد بھارت کے خلاف نکل آئے

آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں بونڈائی بیچ پر پیش آنے والے حملے سے متعلق تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے مطابق واقعے میں ملوث ایک حملہ آور کی شناخت بھارت کی ریاست تلنگانہ کے شہر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے ساجد اکرم کے طور پر ہوئی ہے۔

آسٹریلوی اور بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ساجد اکرم 1998 میں بھارت سے آسٹریلیا منتقل ہوا تھا، جبکہ اس کا بیٹا نوید اکرم پیدائشی طور پر آسٹریلوی شہری ہے۔ ابتدائی طور پر بعض حلقوں کی جانب سے اس واقعے کو پاکستان سے جوڑنے کی کوشش کی گئی، تاہم بعد ازاں تحقیقات میں پاکستان سے کسی بھی قسم کا تعلق ثابت نہیں ہو سکا۔

بھارتی خبر رساں ادارے ’’دی پرنٹ‘‘ اور دیگر رپورٹس کے مطابق ساجد اکرم اور اس کے بیٹے کے سفری ریکارڈ کی جانچ کی گئی، جس میں معلوم ہوا کہ ساجد اکرم یکم نومبر کو بھارتی پاسپورٹ پر فلپائن پہنچا، جبکہ نوید اکرم نے آسٹریلوی پاسپورٹ استعمال کیا۔

بی بی سی کے مطابق دونوں افراد کی آخری منزل فلپائن کا جنوبی صوبہ ڈاواؤ تھی۔ آسٹریلوی براڈ کاسٹنگ کارپوریشن (اے بی سی نیوز) نے رپورٹ کیا ہے کہ باپ بیٹے نے گزشتہ ماہ جنوبی فلپائن میں عسکری نوعیت کی تربیت حاصل کی اور 28 نومبر کو فلپائن سے واپسی اختیار کی۔

آسٹریلوی میڈیا کے مطابق حملے میں زخمی ہونے والا نوید اکرم ہوش میں آ چکا ہے، جس کے بعد تفتیش میں مزید معلومات سامنے آنے کی توقع ہے۔ آسٹریلوی تحقیقاتی اداروں نے معاملے کی مکمل چھان بین کے لیے بھارتی خفیہ اداروں سے بھی رابطہ کیا ہے۔

دوسری جانب حملے کے دوران شہریوں کو بچانے کی کوشش میں زخمی ہونے والے احمد نامی نوجوان کی حالت بہتر بتائی جا رہی ہے۔ اسپتال میں دیے گئے ویڈیو بیان میں احمد نے کہا کہ اگر دوبارہ موقع ملا تو وہ انسانیت کے ناطے ایسا ہی قدم اٹھائے گا۔

آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے اسپتال جا کر احمد کی عیادت کی اور اس کی بہادری کو سراہتے ہوئے اسے ایک حقیقی ہیرو قرار دیا۔

واقعے کے بعد بونڈائی بیچ پر سوگ کا سلسلہ جاری ہے، جہاں ہزاروں افراد نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر پھول رکھے اور ہلاک ہونے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ گزشتہ تین دہائیوں میں آسٹریلیا کے بڑے اجتماعی تشدد کے واقعات میں شمار کیا جا رہا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ واقعے سے متعلق شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

Leave a reply