. ٹی ٹی پی، بی ایل اے سمیت دہشتگرد گروہوں کو افغانستان میں پناہ حاصل ہے، پاکستان

0
0
. ٹی ٹی پی، بی ایل اے سمیت دہشتگرد گروہوں کو افغانستان میں پناہ حاصل ہے، پاکستان

اسلام آباد (ویب ڈیسک): ترجمان دفتر خارجہ نے الزام عائد کیا ہے کہ افغان طالبان حکومت تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، فتنۃ الخوارج، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور فتنہ الہندوستان سمیت مختلف دہشتگرد گروہوں کو افغان سرزمین پر پناہ فراہم کر رہی ہے۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی انسداد دہشتگردی کارروائیوں کے دوران شہریوں کی ہلاکتوں سے متعلق الزامات بے بنیاد ہیں۔ ترجمان کے مطابق ایسے الزامات افغان سرزمین سے سرگرم دہشتگرد نیٹ ورکس کے خطرے کو کم نہیں کر سکتے۔

بیان میں کہا گیا کہ اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ رپورٹس میں بھی افغانستان میں دہشتگرد تنظیموں کی موجودگی اور انہیں مبینہ طور پر حاصل پناہ گاہوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ ترجمان کے مطابق افغان طالبان حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشتگرد کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان میں ہونے والے متعدد دہشتگرد حملوں کی منصوبہ بندی اور مالی معاونت افغانستان سے ہونے کے شواہد موجود ہیں، جن کے نتیجے میں ہزاروں پاکستانی شہری اور سکیورٹی اہلکار جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

پاکستانی مؤقف کے مطابق، مسلسل حملوں کے پیش نظر ملک اپنی سلامتی پر خاموش نہیں رہ سکتا۔ ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان نے کارروائیاں اپنے دفاع کے حق کے تحت اور دیگر ممکنہ راستے اختیار کرنے کے بعد آخری چارہ کار کے طور پر کیں۔

بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ کارروائیوں کا ہدف افغانستان میں دہشتگرد عناصر اور ان کے لاجسٹک مراکز تھے، جبکہ جوابی اقدامات میں خطرے کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے احتیاط اور امتیاز کے اصولوں پر عمل کیا گیا۔

دفتر خارجہ نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ افغان طالبان حکومت کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عمل درآمد کا پابند بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

ترجمان نے آخر میں کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

Leave a reply