
فلوریڈا کے پام بیچ میں جاتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ اگر دیگر ممالک جوہری تجربات کر رہے ہیں تو امریکہ بھی ایسا کیوں نہیں کرے۔ صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ جلد ہی معلوم ہو جائے گا کہ امریکہ اس معاملے میں کیا قدم اٹھانے والا ہے۔
ذرائع کے مطابق، صدر ٹرمپ نے جمعرات کے روز امریکی فوج کو 33 سال کے بعد ممکنہ جوہری تجربات کی تیاری کے لیے ہدایات دی تھیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام چین اور روس کے لیے بھی ایک واضح پیغام سمجھا جا رہا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اور کینیڈا کے درمیان تجارتی مذاکرات دوبارہ شروع نہیں ہو رہے، اور وینزویلا میں کسی فوجی کارروائی کا امکان بھی موجود نہیں ہے۔
ادھر، روس کی جانب سے بھی ردِ عمل سامنے آیا ہے۔ روسی سلامتی کونسل کے سربراہ سرگئی شوئیگو نے کہا کہ اگر دیگر ممالک ایٹمی تجربات کریں گے تو روس بھی ایسا کر سکتا ہے۔ انہوں نے یہ واضح کیا کہ روس نے ابھی تک کوئی ایٹمی دھماکہ نہیں کیا، بلکہ نئی جوہری میزائل ٹیکنالوجی کا تجربہ کیا ہے، جو کہ ایٹمی دھماکے سے مختلف ہے۔
بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور روس کے ممکنہ جوہری تجربات عالمی اسلحہ کنٹرول معاہدوں پر اثر ڈال سکتے ہیں اور نئی جوہری دوڑ کے خدشات بڑھا سکتے ہیں۔









