نیوزی لینڈ نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے نیا بزنس انویسٹر ورک ویزا متعارف کر دیا

نیوزی لینڈ نے عالمی سرمایہ کاروں کو اپنی معیشت کا حصہ بنانے کے لیے ایک نیا بزنس انویسٹر ورک ویزا پیش کیا ہے، جو سرمایہ کاری کے بدلے ملک میں رہائش اور بعد ازاں مستقل رہائش حاصل کرنے کا راستہ فراہم کرے گا۔ حکومتی اعلامیے کے مطابق یہ اسکیم براہِ راست سرمایہ کاری بڑھانے اور ملکی کاروباری سرگرمیوں کو وسعت دینے کے لیے تیار کی گئی ہے۔
دو سرمایہ کاری راستے
نئی اسکیم میں سرمایہ کاروں کے لیے دو آپشن شامل ہیں:
پہلا راستہ: کم از کم 10 لاکھ نیوزی لینڈ ڈالر کی سرمایہ کاری پر تین سالہ ورک ٹو ریزیڈنسی ٹریک دستیاب ہوگا۔
دوسرا راستہ: 20 لاکھ نیوزی لینڈ ڈالر کی سرمایہ کاری پر سرمایہ کار ایک سال میں تیز رفتار رہائشی راستہ اختیار کر سکیں گے۔
اہلیت کی اضافی شرائط
درخواست دہندگان کو کم از کم 5 لاکھ نیوزی لینڈ ڈالر کے اثاثے رکھنے ہوں گے تاکہ وہ اپنی اور اپنے اہل خانہ کی ضروریات پوری کر سکیں۔ اس کے علاوہ کاروباری تجربہ بھی لازمی قرار دیا گیا ہے، جیسے کہ کم از کم پانچ ملازمین والی کمپنی چلانا یا سالانہ 10 لاکھ نیوزی لینڈ ڈالر کا کاروباری حجم ثابت کرنا۔
سرمایہ کار اپنے جیون ساتھی اور زیرِ کفالت بچوں کو بھی ساتھ لا سکیں گے۔ تاہم، حکومت نے واضح کیا ہے کہ جوا، فاسٹ فوڈ اور تمباکو سے متعلق کاروبار اس پروگرام میں قابلِ قبول نہیں ہوں گے۔
دیگر ویزہ پروگراموں کے ساتھ ہم آہنگی
یہ نئی اسکیم نیوزی لینڈ کے موجودہ ایکٹیو انویسٹر پلس ویزا کے ساتھ چلائی جائے گی، جس میں 50 سے 100 لاکھ نیوزی لینڈ ڈالر تک کی بڑی سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے۔
حکومتی موقف
امیگریشن وزیر ایرِکا اسٹینفورڈ کے مطابق یہ نیا پروگرام ملکی معیشت میں تازہ سرگرمی لانے کا ذریعہ بنے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت ایسے سرمایہ کاروں اور کاروباری افراد کو خوش آمدید دینا چاہتی ہے جو نیوزی لینڈ آ کر فعال طور پر کاروبار میں حصہ ڈالیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اسٹارٹ اپ انٹرپرینیورز اور ڈیجیٹل نومیڈز کے لیے بھی خصوصی ویزا پروگرام تیار کیے جا رہے ہیں۔
درخواستیں کب سے؟
بزنس انویسٹر ورک ویزا کے لیے درخواستیں 24 نومبر 2025 سے قبول کی جائیں گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اسکیم عالمی سرمایہ کاروں کو نیوزی لینڈ میں کاروبار، رہائش اور مستقبل میں مستقل رہائش کے لیے ایک واضح راستہ فراہم کرے گی۔









