
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ لوگ نیند کے معاملے میں دو ہی طرح کے ہوتے ہیں: ایک وہ جو علی الصبح جاگ جاتے ہیں اور دوسرے وہ جو رات گئے تک بیدار رہتے ہیں۔
مگر حالیہ سائنسی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔
سائنسی جریدے نیچر کمیونیکیشنز میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق، انسانوں میں سونے اور جاگنے کے معمولات کی بنیاد پر 5 مختلف اقسام پائی جاتی ہیں۔
محققین نے 27 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا، جس کے بعد یہ واضح ہوا کہ نیند کے یہ انداز نہ صرف وقت سے جڑے ہیں بلکہ طرزِ زندگی، ذہنی صحت، عادات اور جسمانی مسائل سے بھی گہرا تعلق رکھتے ہیں۔
رات گئے تک جاگنے والے افراد کی 3 اقسام
پہلا گروپ:
یہ افراد رات دیر تک جاگتے ہیں اور اکثر ایسے طرزِ زندگی کے عناصر اپناتے ہیں جو صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔
جذبات پر قابو رکھنا ان کے لیے مشکل ہوتا ہے، مگر ذہنی طور پر یہ تیز اور بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں۔
ان میں تیز رفتاری سے ڈرائیونگ، موبائل فون کا زیادہ استعمال، تمباکو نوشی اور دن کی روشنی میں کم وقت گزارنا عام ہوتا ہے۔
دوسرا گروپ:
اس گروپ میں شامل افراد بھی رات گئے تک جاگنے کے عادی ہوتے ہیں، مگر ان کی آمدنی نسبتاً کم، جسمانی سرگرمی محدود اور ویڈیو گیمز کا استعمال زیادہ ہوتا ہے۔
تمباکو نوشی، ڈپریشن اور دل کے امراض کا خطرہ ان میں زیادہ پایا جاتا ہے۔
تیسرا گروپ:
اس گروپ میں زیادہ تر مرد شامل ہوتے ہیں، جنہیں بالوں کے جھڑنے یا مثانے کے مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔
یہ افراد خطرہ مول لینے سے نہیں گھبراتے، تمباکو نوشی کرتے ہیں اور ان میں ڈپریشن اور ہائی بلڈ پریشر عام ہوتا ہے۔
علی الصبح جاگنے والے افراد کی 2 اقسام
پہلا گروپ:
یہ افراد عموماً تعلیم یافتہ ہوتے ہیں، تمباکو نوشی سے دور رہتے ہیں اور غیر ضروری خطرات سے بچتے ہیں۔
اگرچہ صبح جلد جاگنے پر کچھ حد تک فکرمندی محسوس کرتے ہیں، مگر جذبات پر بہتر کنٹرول رکھتے ہیں اور طبی مسائل نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
دوسرا گروپ:
اس گروپ میں زیادہ تر خواتین شامل ہوتی ہیں، جن میں ڈپریشن اور منفی سوچ کی علامات دیکھی گئی ہیں۔
ماہرین کی رائے
محققین کے مطابق نیند اور بیداری کے یہ انداز جینز، ماحول اور طرزِ زندگی کے پیچیدہ امتزاج کی عکاسی کرتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ہر انسان مختلف ہے اور نیند کا کوئی ایک ایسا معمول نہیں جو سب کے لیے یکساں طور پر بہترین









